اردو سائنس بورڈ میں اردو سائنس کتاب گھر کا افتتاح

وطن عزیز میں اردو کو صحیح معنوں کو قومی زبان کا درجہ کب حاصل ہو گا، اس بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا ماضی میں بابائے اردو مولوی عبدالحق، پروفیسر حمید احمد خان، ڈاکٹر سید عبداللہ، میاں بشیر احمد، ڈاکٹر وحید قریشی سمیت بڑے بڑے نام اس حوالے سے ہمیں ملتے ہیں جنہوں نے اردو کی ترویج و اشاعت کے لیے بہت کام کیا اور بڑے بڑے ادارے قائم کیے گئے۔
اردو سائنس بورڈ بھی انہی میں سے ایک ادارہ ہے جس کو 1962ء میں قائم کیا گیا، اس کا پرانا نام مرکزی اردو بورڈ تھا جس نے مختلف سائنسی علوم کو قومی زبان میں منتقل کرنے کا کارنامہ سر انجام دیا،اس ادارے کے پہلے سربراہ مجید ملک تھے۔
مرکزی اردو بورڈ کو موجودہ نام ’اردو سائنس بورڈ‘ 1982ء میں دیا گیا، نامور ادیب اور دانشور جناب اشفاق احمد اس کے سربراہ مقرر ہوئے۔
گزشتہ کئی برسوں سے یہ ادارہ انتظامی و مالی مشکلات کا شکار چلا آ رہا تھا، مالی مسائل کی وجہ سے نئی کتابوں کی اشاعت کا کام بے حد سست رفتاری سے جاری تھا، ایک برس پہلے اس ادارے کی قسمت گویا جاگ اٹھی اور معروف دانشور ڈاکٹر ناصر عباس نیّر کو اس کا سربراہ بنا دیا گیا، بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ انہوں نے اس مردہ گھوڑے میں نئی جان ڈال دی اور درجنوں کتابیں شائع کر کے اہل دانش و اقتدار کو چونکا دیا۔
کسی نے درست کہا ہے کہ بعض شخصیات اپنی ذات میں ایک ادارہ ہوتی ہیں اور کسی ادارے کو ایسی کوئی شخصیت مل جائے تو وہ ادارہ صحیح معنوں میں ادارہ بنتا ہے اور دوسرے اداروں کے لیے ایک رول ماڈل کا بھی کام کرتا ہے۔
ڈاکٹر ناصر نے اس ادارے کی گزشتہ عظمت کو بحال کرنے کے لیے دن رات ایک کر دیے، ان کا ایک کارنامہ اردو سائنس کتاب گھر کا قیام ہے جس کا وزیراعظم کے مشیر برائے قومی تاریخ وادبی ورثہ عرفان صدیقی نے افتتاح کیا، اس موقع پر انہوں نے بہترین سائنسی کتاب کے لیے ڈاکٹر عاصم بخشی کو پچاس ہزار روپے کا نقد انعام بھی دیا۔
وزیراعظم کے مشیر عرفان صدیقی نے بتایا کہ علمی و ادبی اداروں کی بہتری اور ادیبوں کی فلاح کے لیےقومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویژن نے پچاس کروڑ روپے سے انڈومنٹ فنڈ قائم کیا ہے جس کے تحت علمی و ادبی کانفرنسیں اور سیمینار کروائے جائیں گے۔
ڈاکٹر ناصر عباس نیّر نے بتایا کہ اردو سائنس بورڈ بہت جلد ستر نئی کتابوں کی اشاعت کرے گا۔
تقریب میں ڈاکٹر زاہد منیر عامر، ڈاکٹر جاوید اقبال قاضی، ڈاکٹر خالدمحمود سنجرانی، محمد اکرام چغتائی، نزہت اکبر، ناصر بشیر، ڈاکٹر اورنگ زیب نیازی، صاحبزادہ محمد زابر سعید بدر، سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کے سربراہان، بورڈ کے افسران، طلبا اور اساتذہ کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

(صاحبزادہ محمد زابر سعید بدر 50 کتابوں کے مصنف ہونے کے ساتھ ساتھ ممتاز صحافی، محقق اور ابلاغ عامہ کی درس و تدریس سے وابستہ ہیں، حال ہی میں بہترین میڈیا ایجوکیشنسٹ بھی قرار پائے ہیں)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں