برنارڈ شا اور جنگ

برنارڈ شا انگریزی ادب کا مشہور ڈرامہ نگار ھے۔ اپنے ایک ڈرامے ” آرمز اینڈ دی مین ” میں وہ لکھتا ھے۔ جنگ بازی وہ بزدلانہ آرٹ ھے۔ جس میں کمزور کو بے رحمی سے مارا جاتا ھے۔ اور خطرے کو سامنے دیکھ کر راستہ تبدیل کر لیا جاتا ھے۔ دانشمندی کا تقاضا یہ ھے۔ جہاں تک ھو سکے۔ اپنی جان بچائ جائے ۔ایک سپاہی کو زندہ رھنے کا حق اتنا ھی حاصل ھے۔ جتنا ایک عام شہری کو۔ چناچہ ضرورت پڑنے پر میدان جنگ سے فرار عین حکمت اور عملیت پسندی ھے۔ برنارڈ شا مزید لکھتا ھے۔ دس میں سے نو فوجی پیدائشی طور پر احمق ھوتے ھیں۔ جنہیں ھم جنگی ھیرو کہہ کر ان کی پرستش کرتےھیں اور ان سے محبت کرتے ھیں وہ بنیادی طور پر بزدل اور احمق ھوتے ھیں۔ فوجی عام سطح کے انسان ھیں ۔ جنہیں بھوک لگتی ھے۔ جو تھکاوٹ کا شکار ھوتے ھیں۔ جنہیں گرمی اور سردی تنگ کرتی ھے۔ اور جو مسلسل جاگ نہیں سکتے۔ اور جنہیں نیند بھی آتی ھے۔ ان عام لوگوں کو مافوق الفطرت ھستی سمجھنا ایک رومانوی بھول ھے۔ برنارڈ شا رومانیت پسندی کی ایک مزید چٹکی لیتے ہوئے کہتا ہے ۔ بوڑھے جرنیل اور جوان فوجی میں فرق یہ ھے۔ بوڑھا جرنیل جنگی حالات کے دوران خوراک پر تکیہ کرتا ھے۔ جبکہ جوان فوجی گولی اور بارود پر بھروسہ کرتا ھے۔ وجہ اس کی یہ ھے۔ بوڑھا جرنیل اپنی عمر ، کمزوری اور تجربے کی بنیاد پر عملیت پسندی اور حکمت کا شکار ھوتا ھے۔ جبکہ جوان فوجی جوش اور گرم خون کی وجہ سے رومان پرور دنیا میں رھ رھا ھوتا ھے۔ چناچہ جوان فوجی تو لڑنا چاہتا ھے۔ لیکن بوڑھا جرنیل دانشمندی کی حکمت عملی اپناتے ھوے گولہ بارود کی جگہ خوراک یا دوسرے الفاظ میں معیشت پر توجہ مرکوز رکھتا ھے۔ بقول برنارڈ شا بوڑھا جرنیل آرام ، سہولت اور کھانے پینے کا عادی ھو چکا ھوتا ھے۔ اس کی دانائی اور عقلمندی کا تقاضا یہ ھے۔ کہ وہ جنگ سے پرھیز کرتے ھوے ان سہولتوں اور آسائشوں کو انجوائے کرتا رھے۔ اور اگر یہ فوجی اقتدار اور اختیار کا مزہ بھی لے رھا ھو۔ تو پھر یہاں سے موت اور بربادی کی ایک نئی شکل متعارف ھو جاتی ھے۔
برنارڈ شا کی منطق یہ ھے۔ جن جنگی کارناموں پر فوجیوں کا کورٹ مارشل ھونا چاھیے ۔ ان کو تغمے دیے جاتے ہیں ۔ اور ان کی ترقی کر دی جاتی ھے۔ لیکن برنارڈ شا مکمل طور پر جنگ کے خلاف نہیں ۔ قومی ضرورت پڑنے پر جنگ کی جا سکتی ھے۔ البتہ وہ جنگ کو گلوری فائ کرنے کے خلاف ھے۔ خاص طور پر برنارڈ شا کی ڈکشنری میں غیرت ، حمیت ، قربانی اور عزت اور بے غرضی جیسے الفاظ کی گنجائش نہیں ۔ وہ عملیت پسند ھے۔ اور اس کا خیال ھے۔ آدمی فوج میں اس لیے بھرتی نہیں ھوتا۔ کہ اس نے ملک اور قوم کے لئے جان قربان کرنا ھوتی ھے۔ بلکہ اس کا سب سے پہلا خیال اپنی بے روزگاری ختم کرتے ہوئے روزگار کا حصول ھوتا ھے۔ پھر بہتر اور پر کشش کیریئر کا خیال آتا ھے۔ زیادہ سے زیادہ سہولیات اس کا مطمع نگاہ ھوتی ھیں۔ وہ پروموشن ملنے پر خوش ھوتا ھے۔ اور ترقی رک جانے پر جلتا اور کڑھتا ھے۔ ترقی حاصل کرنے کے لیے خوشامد کا سہارا لیتا ھے۔ اپنے خاندان اور اپنے علاقے میں اپنی فوجی پوزیشن کی وجہ سے فخر اور خوشی محسوس کرتا ھے۔ ریٹائرڈ ھونے پر سول میں ملازمت حاصل کر لیتا ھے۔ اور یا پھر دانشور اور سیاستدان بن جاتا ہے ۔ اور اخبارات میں مضامین لکھ کر اپنی انا کی تسکین کرتا ھے۔
برنارڈ شا کا خیال ھے۔ جنگ بھی ایک ٹریڈ کی مانند ھے۔ جس میں نفع و نقصان کا خیال رکھا جاتا ھے۔ ایک کامیاب فوجی وہ ھے۔ جو ایک پروفیشنل ٹریڈر کی طرح جنگ میں حصہ لیتا ھے۔ چناچہ جہاں اس کا سامنا طاقتور دشمن سے ھو۔ وہ جنگ سے گریز کرتا ھے۔ لیکن جہاں اس کا دشمن کسی کمزوری کا شکار ھو۔ وہاں وہ بے دریغ اس پر ٹوٹ پڑتا ھے۔ یوں جنگ ایک نوبل عمل نہیں ایک منافقانہ عمل ھے۔ جسے ماڈرن ذبان میں دانائی اور حکمت کا نام دیا جاتا ھے۔ آج کی جنگیں ھیرو ازم کی بجائے معیشت پر لڑی جاتی ہیں ۔ اور یہی آج کی دنیا کا سچ ھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں