پہلے اپنا گھر ٹھیک کریں

بالآخر وہ خبر آن پہنچی جس کا خطرہ ایک مدت سے منڈلا رہا تھا۔ امریکہ نے پاکستان کی فوجی امداد روک لی ہے۔ اس پابندی کا مالی حجم تو ابھی حتمی طور پہ معلوم نہیں ہو سکتا لیکن سچ یہ ہے کہ اصل خسارہ مالی نہیں۔ حقیقی اندیشہ یہ ہے کہ اس دھچکے سے لڑھک کر ہم کہیں تاریخی بہاؤ کی غلط سمت پر نہ جا پہنچیں۔ چند ہفتے قبل اسلام آباد کے فیض آباد چوک میں دھرنا دیا گیا تو بہت سی آوازیں سنائی دیں کہ حکومت کیا دو ہزار مظاہرین پہ قابو پانے کی صلاحیت بھی کھو بیٹھی ہے؟ حقیقت یہ تھی کہ فیض آباد دھرنے میں شامل دو ہزار افراد کی پشت پر ایک طوفانی دھمکی موجود تھی۔ اصل چیلنج اس آسیب سے پنجہ آزمائی کا تھا جو خادم رضوی اور ان کے ساتھیوں کی صورت میں اسلام آباد پہنچا تھا۔ بالکل اسی طرح معاملہ پچیس کروڑ ڈالر کا نہیں۔ مالی بندش سے تو محض گردو غبار کی ایک دیوار اٹھائی جا رہی ہے جس کی آڑ میں ایک منہ زور لشکر ہماری طرف بڑھ رہا ہے۔
امریکی امداد کا حجم یا اس میں بندش بنیادی مسئلہ نہیں۔ آزادی کے بعد پہلے سات برس ہمیں امریکہ سے ایک پائی نہیں ملی۔ 1954 سے 1965 تک ڈھائی ارب ڈالر اقتصادی مدد میں ملے اور سات سو ملین ڈالر فوجی امداد میں ملے۔ 1965ء سے 1971ء تک کل چھبیس ملین ڈالر کی فوجی امداد ملی۔ تب ہم امریکہ کے چین سے روابط بحال کرانے میں خفیہ پیغام رسانی کا صلہ مانگتے تھے۔ ہم نے چین اور امریکہ سے مدد کی ایک تخیلاتی امید باندھ لی تھی۔ ایسی امیدیں کہاں پوری ہوتی ہیں؟ افغان جہاد میں ہمیں ساڑھے پانچ ارب ڈالر ملے۔ اس دوران ایٹمی پروگرام بھی جاری رہا اور چین سے دوستی بھی قائم رہی۔ اب جو ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی قربانیوں کا اعتراف چاہتے ہیں، اس کا ٹھیک ٹھیک مفہوم کیا ہے؟ 1989ء میں افغان مزاحمت کا جواز ختم ہو چکا تھا۔ اس کے بعد بارہ برس تک غیر ریاستی عناصر کی سرپرستی ہم نے کسی سے پوچھ کے نہیں کی۔ 2001 اور اس کے بعد کے مناظر تزویراتی گہرائی کے اسی غار سے برآمد ہوئے۔ ہمارے پالے ہوئے دہشت گرد ہم پر پل پڑے، ہمارے ہزاروں ہم وطن مارے گئے۔ ہم نے دہشت گردی سے لڑنے میں کم قربانیاں دیں، اصل نقصان تو تب ہوا جب ہم دہشت گردوں کی توقعات پوری نہیں کر سکے۔ اب ہم چاہتے ہیں کہ ہمیں اس ذمہ داری سے بری کیا جائے کہ دنیا بھر کے دہشت گرد ہمارے ملک کو اپنی جاگیر سمجھتے رہے۔ اور وہ اس لئے کہ ہم دہشت گردوں کے بنیادی مفروضات کی دوٹوک تردید کی بجائے ان کی عذر خواہی کرتے تھے۔ حتیٰ کہ ہم نے 2009ء میں ساڑھے سات ارب ڈالر کی ترقیاتی مدد کو بھی قریب قریب سازش کا روپ دے دیا۔
2013ء کے انتخابات کی آمد آمد تھی۔ عمران خان کی صورت میں ایک نیا کھلاڑی میدان میں اتارا جا چکا تھا۔ طاہر القادری بھی ریاست بچانے کے بلند بانگ نعرے لگاتے وطن واپس پہنچ چکے تھے۔ ایک منتخب وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو توہین عدالت کے تکنیکی نکتے کی مدد سے معزول کیا جا چکا تھا۔ سرکاری وثیقہ نویسوں کا طائفہ میمو گیٹ اسکینڈل کی نفیری بجا رہا تھا۔ میاں نواز شریف صحافتی ادارے سافما کے شادمان لاہور میں واقع دفتر میں تشریف لائے، چنیدہ صحافیوں کے سامنے ملکی صورت حال پر اظہار خیال کیا۔ ان کے خیالات بظاہر نہایت سادہ اور قابل عمل تھے۔ تاہم صحافی جذباتی نہیں ہوتے۔ فوجداری وکیل اور پولیس آفیسر کی طرح غیر جذباتی جمع تفریق سے کام لیتے ہیں۔ انہیں معلوم تھا کہ ہمارے ملک میں بالادست ذہن سادگی کے بجائے پیچیدگی اور شاہراہ کی بجائے پگڈنڈی سے شغف رکھتا ہے۔ میاں صاحب قومی ترجیحات کا جو نقشہ بیان کر رہے تھے اسی کی تفصیل میں دہشت کا سامان تھا۔ اس بظاہر سادہ نسخے میں بہت کم یاب مرکبات شامل تھے۔ میاں نوازشریف کے فرمودات کا خلاصہ یہ تھا کہ ہمیں پاکستان کو ایک نارمل ملک بنانا چاہئے۔ خطے میں غیر ضروری مہم جوئی کو ترک کر دینا چاہئے۔ اقتصادی ترقی کو بنیادی ترجیح دینی چاہئے نیز یہ کہ ملک کا بندوبست آئین میں بتائے گئے طریقے سے چلانا چاہیے۔ برادر بزرگ نے پچھلے دنوں جسٹس مارشل کا ایک اصول بیان کیا کہ آئین کی وہی تشریح وقیع ہوتی ہے جو عام فہم ہو۔ مشکل یہ ہے کہ ہمیں عام فہمی اور سلامت روی سے اللہ واسطے کا بیر ہے۔ میاں نواز شریف کے ایجنڈے پر عمل کرنا اگر ایسا ہی آسان ہوتا تو ہماری تاریخ ایک مسلسل بحران کا روزنامچہ نہ ہوتی۔ پاکستان میں بے چہرہ قوتوں کا ہدف بہت واضح رہا ہے۔ انہیں واضح عوامی مینڈیٹ کی بجائے منقسم پارلیمنٹ پسند ہے۔ وفاق کی اکائیوں پر اعتماد کی بجائے بالا دست مرکز انہیں مرغوب ہے۔ پارلیمانی نظام کی بجائے انہیں صدر کے عہدے میں اختیارات کا ارتکاز پسند ہے۔ ان پس پردہ جادوگروں کو مذہب کے نام پر سیاست کرنے والی جماعتیں اسی لیے عزیز ہیں کہ مذہبی ذہن کی جمہوریت سے کوئی نظریاتی وابستگی نہیں۔ صاف نظر آرہا تھا کہ میاں نواز شریف انتخاب جیت بھی گئے تو ان کا انجام بخیر نہیں ہو گا۔ انتخاب جیتنے کے چند ماہ بعد نواز شریف امریکہ کے دورے پہ گئے۔ غالبا اکتوبر کی 24 تاریخ تھی۔ امریکی صدر باراک اوباما سے ملاقات کے بعد میاں نواز شریف نے بیان دیا کہ ہمیں اپنا گھر ٹھیک کرنا ہو گا۔ یہ عین مین وہی لفظ ہیں جو امریکہ کے حالیہ دورے میں خواجہ آصف نے بھی دہرائے۔ ابھی تین روز قبل سعودی عرب سے واپسی پر میاں نواز شریف نے پریس کانفرنس میں پھر یہی ترکیب دہرائی کہ ہمیں اپنا گھر ٹھیک کرنا ہے۔ دشواری یہ ہے کہ گھر کو ٹھیک کرنے کے نسخے پر اختلاف رائے ہے۔ جمہوریت مخالف ذہن کا ترجیحی موقف یہ ہے کہ سب خرابیاں بیرونی سازش سے تعلق رکھتی ہیں۔ ہمیں اپنی داخلہ اور خارجی پالیسیوں میں کسی تبدیلی کی ضرورت نہیں۔ دوسری طرف سیاسی قیادت کچھ بنیادی نکات پر ہئیت مقتدرہ سے اختلاف رکھتی ہے۔
دیکھنا یہ ہے کہ آج کی عالمی صف بندی کیا ہے۔ امریکہ اور بھارت کی دوستی وسیع تر عالمی تناظر میں ناگزیر ہے۔ بیس کروڑ کی آبادی اور جغرافیائی محل وقوع کی بنا پر پاکستان اس بساط پہ ایک اہم کھلاڑی ہو سکتا تھا مگر ہم نے تاریخ کے بہاؤ کا صحیح تخمینہ نہیں لگایا۔ نہایت معذرت کے ساتھ عرض ہے کہ ہم جن ممالک سے دوستی کی امید باندھے بیٹھے ہیں، ان ریاستوں کی اپنی جمہوری ساکھ مخدوش ہے۔ ہم نے اپنے ملک میں جمہوریت کو متنازع، مفلوج اور غیر مستحکم کر رکھا ہے۔ ہم امریکی دروازے سے اٹھ کے جس دہلیز پہ بیٹھنا چاہتے ہیں اس دیار کی آب و ہوا ہمارے ملک کے سیاسی، معاشرتی، ثقافتی اور آئینی حالات کے موافق نہیں ہے۔ سوال امریکہ کی بالادستی قبول کرنے کا نہیں، اپنے گھر کو ٹھیک کرنے کا ہے۔ ہمیں سیاسی چائنا کٹنگ کی بجائے جمہوری عمل کو بغیر رکاوٹ کے آگے بڑھنے کا موقع دینا چاہئے۔ ہمیں ان عناصر کو تھپکی دینے سے گریز کرنا چاہئے جو ایک سے زیادہ مسلم اکثریتی ملکوں کے بخیے ادھیڑ چکے ہیں۔ ہمیں مفروضہ نظریاتی صف بندیوں سے منہ موڑ کر اپنے ملک کے اقتصادی مفاد پر توجہ دینی چاہئے۔ اس نعرے بازی میں زیادہ وزن نہیں کہ ہماری مشکلات، ایٹمی صلاحیت یا سی پیک سے تعلق رکھتی ہیں، ایٹمی صلاحیت تو ہمارے علاوہ بھی چھ ممالک کے پاس موجود ہے۔ ون بیلٹ ون روڈ کا منصوبہ صرف پاکستان تک تو محدود نہیں۔ چین کے تعاون سے اسی طرح کے منصوبے درجنوں دوسرے ممالک میں زیر تعمیر ہیں۔ سی پیک کا معاہدہ تو مئی 2013ء میں طے پایا۔ ہماری آزمائش تو اس سے بہت پیچھے جاتی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی سینہ زوری کا مقابلہ عقل مندی ہی سے کیا جا سکتا ہے۔ عقل مندی کا تقاضا ہے کہ ہم جمہوریت کے ذریعے اقتصادی ترقی کا راستہ اپنائیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی سے ہمارے لیے دو راستے نکلتے ہیں۔ پرانا اور آزمودہ طریقہ یہ ہے کہ بیرونی سازش کی دہائی دے کر ماضی جیسی مشکلات کو دعوت دی جائے۔ دوسرا راستہ سادہ ہے اور سلامتی کی طرف لے کے جاتا ہے اور وہ یہ کہ اپنے ہی ملک کے خلاف سازش ختم کی جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں