چورن

پنجاب فوڈ اتھارٹی نے چورن کو مضرِصحت قراردیتے ہوئے اس پر پابندی عائد کردی ہے۔محکمہ ہذا کی کارکردگی کو کیاعنوان دیاجائے کہ جس نے آزادی کے 70سال بعد غریب بچوں کے ’’پسندیدہ زہر ‘‘ پر پابندی عائد کردی ہے۔ ڈاکٹر طیب سرورمیرکاکہنا ہے کہ چورن کھانے سے بچوں کو انتڑیوں کی بیماریوں سمیت کینسر جیسا موذی مرض لاحق ہونے کا خطرہ ہوتاہے۔مجھے دھندلادھندلا یاد ہے بہت چھوٹی عمر میں ،میں بھی چورن کھایاکرتاتھا۔ بابا چورن کا ناک نقشہ مجھے آج بھی یاد ہے۔میرے شہر گجرانوالہ پونڈہ والہ چوک میں ایک بوڑھا شخص سرکنڈوں کے اسٹینڈ پر رنگ برنگے لکڑی کے چھابے کے ساتھ نمودار ہوا کرتا۔اس کی رنگت نہ صرف کالی تھی بلکہ یوں لگتاتھا جیسے اسے جلتے تندور سے نکالا گیاہو۔باباچورن بارہ عدد چھوٹی ہانڈیوں سے مختلف مسالے شامل کرکے چورن کی پڑیاتیارکرتا اور اپنے پالتوطوطے کی چونچ میں تھمادیتا۔میاں مٹھو یہ پڑیا گاہک کو دیتے ہوئے کہتا’’چورن حاضر ہے ‘‘۔میاں مٹھو سے چورن کھانا ہمارے لئے ڈزنی لینڈ کی سیر کرنے جیسی ایکٹی وٹی سے کم نہ تھا۔ وطن عزیز میں پانی ،دودھ ،گھی،سبزیاں،پھل یہاں تک Life saving drugsکے خالص ہونے کی ضمانت نہیں ہوتی۔لہذا ایسی صورت حال میں مضرصحت چورن پر پابندی عائد ہوناباعث اطمینان وافتخار ہے۔ایک طویل عرصہ سے میں بھی ’’ نیم کلاسیکی بزرگی‘‘(نصف بزرگی ) کی کٹیگری میں شمار کیاجارہاہوں ۔ لہذا چورن ،املی اورمنہ سلونا کرنے والی ایسی کھٹی میٹھی چیزیں میری ترجیح نہیں رہیں ۔ بچوں کی صحت کو چورن سے خطرہ تھاجس پر پنجاب فوڈ اتھارٹی نے اس پر پابندی عائد کرکے انہیں محفوظ کرنے کی کو شش کی ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ کی ڈرون جیسی دھمکیوں نے 70سالہ پاک امریکہ دوستی کے رُخِ روشن کو بری طرح جھلسا دیاہے۔
یکم مئی 1947یعنی آزادی سے لگ بھگ ساڑھے تین ماہ پہلے امریکی سفارت کاروں جن میں Raymond A Hareاور Thomas E Weilنے قائد اعظم سے ملاقات کی ۔جس میں متوقع پاکستان اور دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں سپر پاور کے طور پر ابھر کر سامنے آنے والے امریکہ کے مابین تعلقات اور علاقائی ترجیحات طے کرلی گئی تھیں۔14اگست 1947کو آزادی کے دن قائد اعظم دہلی سے کراچی روانہ ہوئے تو بھارت میں امریکی سفیران کو الوداع کرنے ایئر پورٹ پر موجودتھا۔امریکہ کے صدر ہیری ٹرومین نے 15اگست کو اپنے تہنیتی پیغام میں کہاکہ میں آپ کویقین دلاتاہوں کہ Dominion(پاکستان)امریکہ کی مضبوط دوستی اور خیر سگالی کے ساتھ اپنے سفر کا آغاز کرے گا۔امریکی حکومت اور عوام آپ کے ملک کے ساتھ طویل قریبی اور خوشگوار مراسم کی توقع رکھتے ہیں۔47سے لے کر 2017تک پاکستان اورامریکہ کے تعلقات مفاہمت (Engagement)اور کشیدگی (Estrangement) جیسی صورت حال سے دوچار رہے ۔پہلے دس سال پاک امریکہ تعلقات میں بے رخی چھائی رہی ۔فیلڈ مارشل ایوب کے دور میں تعلقات خوشگوار رہے۔نکسن اور جنرل یحییٰ کے مثالی تعلقات رہے ۔ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں تعلقات دوبارہ خراب ہوئے۔جنرل ضیا الحق کا دور ہنی مون پیریڈ تھا۔بے نظیر بھٹو اورنوازشریف کے ادوار میں بھی امریکہ کبھی خوش اور کبھی ناراض ہوتارہا۔جنرل مشرف اقتدار میں آئے تو پاک امریکہ تعلقات ایک بار پھر ہنی مون کاروپ اختیار کرگئے۔غور کیاجائے تو امریکہ بہادر پاکستان سے فوجی ادوار میں خوش اور جمہوری حکومتوں سے ناراض رہا ہے۔اس کی کیاوجہ ہوسکتی ہے کہ دنیامیں سرمایہ دارانہ جمہوری نظام کے سرخیل کا رویہ ہم سے دوغلاہے۔کیا ہم تجزیہ کرپائے ہیں کہ امریکہ بھارت میں جمہوریت اور پاکستان میں آمریت کو ’’اسپانسر ‘‘کیوں کرتا رہا؟ہمارے خواجہ وزیر خارجہ نے تو امریکہ کو ’’یار مار‘‘ کہہ دیا ہے۔انگریزی میں یار مار کا مطلب بروٹس سے لیا جاتاہے لیکن اردو میں ایسے دوست کے بارے میں غالب نے کہاہے کہ
یہ فتنہ آدمی کی خانہ ویرانی کو کیاکم ہے
ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسماں کیوں ہو؟
’’یارمار‘‘ہدایتکار ایم جے رانا کی کامیاب فلم تھی جس کی اسٹار کاسٹ میں اداکار حبیب ، علائوالدین،الیاس کشمیری ،نیلو،منورظریف،رنگیلا، زلفی اور بڑھکوں کابادشاہ مظہر شاہ شامل تھے۔ مظہر شاہ ایسے ولن تھے جن کی بڑھک ان کی اداکاری سے بڑھ کرتھی۔ان کی لگائی بڑھکیں نصف صدی گزرنے کے باوجود آج بھی ہماری سیاست اور معاشرت میں سنائی دیتی ہیں۔اوئے میں ٹبر کھاجاواں تے ڈکار نہ ماراں( ارے میں خاندان کھاجائوں اور ڈکار نہ لوں ) اسی طرح ایک اور بڑ مقبول ہوئی تھی ،اوئے میں اڈی مار کے تے دھرتی ہلادئیاں (ارے میں ایڑی ماروں اور دھرتی ہلادوں ) بڑھکیں ہمارا قومی رویہ ہے۔ہمارے قائدین جلسے ،جلسوں ،ریلیوں اوردھرنوں میں بڑھکوں سے اجتماع کو گرماتے ہیں۔اوئے توئے کے ساتھ ساتھ اب تو گالیوں کی صورت میں ہلکی پھلکی موسیقی کا مظاہرہ بھی کرنے لگے ہیں۔فیض آباد دھرنے میں کئے گئے ’’فن کے مظاہرے‘‘ کے ویڈیو کلپس جس تعداد میں دنیا میں شیئرز کئے گئے ہیں اس سے برٹنی اسپیر،مورائے کیری اور واکاواکا فیم شکیراکہیں پیچھے رہ گئی ہیں۔ٹرمپ نے پاکستان کو بے وفا اور دھوکے باز کہتے ہوئے الزام لگایاکہ ہم نے دہشت گردوں کو محفو ظ ٹھکانے فراہم کررکھے ہیں۔مزید یہ کہ15سال میں دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنے کے لئے امریکہ نے ہمیں 33ارب ڈالر فراہم کئے جس میں کرپشن ہوئی ۔ٹرمپ کے مشیر ساجد تارڑ نے پاکستانی چینلز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہاکہ پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کی مارکیٹنگ کی ضرورت ہے۔ امریکی صدرکے ساجد تارڑنامی مشیر کے صوتی اثرات سے لگتاہے ری پبلکن صدر کا پورانام چوہدری ٹرمپ تارڑہونا چاہیے۔دراصل امریکی صدر جدید دنیا کا چوہدری قرار پاچکا ہے ۔سوویت یونین کی عسکری اور معاشی تجہیز وتکفین کے بعد امریکہ دنیا کا وڈا چوہدری تسلیم کرلیاگیا۔امریکہ کو دنیا کا وڈا چوہدری بنانے میں پاکستان کا وہی کردار تھا جو ’’دیوداس ‘‘ میں چنی بابو کا فلم کے ہیرویعنی دیوداس اور چندر مکھی کی ناکام محبت میں تھا۔دیوداس میں چنی بابو کا کردار جیکی شیروف جبکہ دیگر کردار شاہ رخ خان ،مادھوری اور ایشوریارائے نے نبھائے تھے۔دیوداس اپنی بچپن کی محبت پاروتی سے عشق کرتاہے جبکہ چندر مکھی اپنے محبوب کی بے پروائی کے باوجود اسے ٹوٹ کر چاہتی ہے اور عشق دیوانی کا روپ دھار لیتی ہے ۔امریکہ ،بھارت اور پاکستان کی کہانی بھی کچھ ایسی ہی لگتی ہے۔چندر مکھی پر فلمایاوہ گیت یاد کیجئے جس میں وہ اپنے محبوب کی آمد پر بے اختیار پکار اٹھتی ہے ۔۔ہم پہ یہ کس نے ہرا رنگ ڈالا۔۔خوشی نے ہماری ہمیں مارڈالا۔۔مارڈالا۔۔مارڈالا۔۔70سال پہلے بھی ہمیں امریکہ کی ضرورت تھی اور آج بھی ہے۔ریکارڈ گواہ ہے پاکستان کے پہلے وزیر خزانہ غلام محمد (جو بعدازاں گورنر جنرل بنے)نے قیام پاکستان کے صرف دوہفتے بعدامریکی سفیرچارلس لیوئس سے براہ راست امداد کی درخواست کی تھی۔امریکہ میں پاکستان کے پہلے پاکستانی سفیر ایم اے ایچ اصفہانی نے معاشی اور دفاعی اخراجات کے لئے 2بلین ڈالر امداد کی درخواست کی تھی جسے امریکہ نے مسترد کرکے صرف 10ملین ڈالر کی امداد فراہم کی تھی۔امداد دینے اورلینے والے ممالک میںدوستی کیسی، دونوں دوست نہیں آقا اور غلام ہوتے ہیں۔ جس دن ہم امریکہ اور اپنے رشتے میں ’’فرینڈز ناٹ ماسٹرز‘‘کی ضد کو ختم کردیں گے ہم سپر پاور کو یار مار کہنا چھوڑ دیں گے۔اگر ہمیں امریکہ کا دوست کہلانے کا شوق ہے تو پھر اس ملک کو معاشی اور عسکری طور پر اپنے پائوں پر کھڑا کرنا پڑے گا۔وگرنہ ہمیں امریکہ کی ڈانٹ ڈپٹ اور طعن وتشنیع کا چورن کھاتے رہنا ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں