سر رہ گزر

امریکہ نے پاکستان کی تمام تر دفاعی امداد روک دی ہے، ہمارے وزیر خارجہ خواجہ آصف نے جواباً کہا: امریکہ، یار مار ہے۔ جبکہ وفاقی وزیر دفاع نے کہا: امریکہ نے ہمیشہ ہمیں دھوکا دیا۔ نہ جانے ہمیں بات کی سمجھ تیسرے دن جا کر کیوں آتی ہے؟ ہم سے امریکہ نہیں بدلا، ٹرمپ بدل گیا، پھر یہ بھی ہے کہ خطے میں امریکہ کو اپنا اثر و نفوذ خطرے میں پڑتا دکھائی دے رہا ہے، پاک چین دوستی اور سی پیک وہ پیٹ درد ہے جو اس وقت امریکہ کو لاحق ہو چکا ہے اور ٹرمپ کو محسوس ہونے لگا ہے کہ اب کوئی بھی اس کے کہنے میں نہیں، بہرحال پاکستان نے امریکہ سے جتنی وفا کی اس سے بڑھ کر امریکہ کی جفا شعاری کی داستان ہے، سچ کہا ہمارے وزیر خارجہ نے کہ امریکہ اچھے کھرے دوستوں کو کھو دینے کا ہنر جانتا ہے، کوئی خود کش بمبار ہوتا ہے ٹرمپ یار کش بمبار ہے، پاکستان کا دفاع امریکی ڈالر کا محتاج نہیں، اگر اس ملک کا سیاسی نظام راہ راست پر ہو، کرپشن نہ ہو تو یہ اتنے وسائل پیدا کر سکتا ہے کہ کسی کی جانب دیکھنے کی ضرورت نہیں، ہماری افواج دنیا کی بہترین فوج اور قوم نہایت فعال سیکنڈ لائن ہے، امریکی گیدڑ بھبکیاں دم توڑ جائیں گی، کیونکہ امریکہ نے جو قدم اٹھایا ہے گویا اس نے ہمیں آزاد کر دیا ہے اس لحاظ داری سے جس کی ہم بھاری قیمت چکاتے آ رہے ہیں، امریکہ کو جو رویہ ہمارے ساتھ رکھنا چاہئے تھا اور وہ اس کی ضرورت بھی ہے، ہمارے دشمن کے ساتھ روا رکھا، ایسا حریف جو ہمارا وجود مٹانے کے در پے ہے، اس کا ساتھ دینے سے اب پاکستان یہی کہہ سکتا ہے کہ یک نہ شد دو شد، ہم اپنے گھر میں بیٹھ کر اسے سنوار رہے ہیں، کسی سے مخاصمت مخالفت نہیں رکھتے اس کے باوجود اگر ہماری خود مختاری و آزادی کو چھیڑا گیا تو اس کے نتائج نہ صرف امریکہ بلکہ پوری دنیا کے لئے خطرات کی صورت ظاہر ہوں گے، ہر مشکل گھڑی میں ہمارے سچے کھرے دوست کام آئے، جبکہ امریکہ نے جب بھی یہ محسوس کیا کہ ہم شاید داخلی انتشار کا شکار ہیں تو اس نے وار کیا اب ہمیں کسی کی امداد کے بجائے اپنی مدد آپ کی ضرورت ہے۔
٭٭٭٭
اندھا دھند، دھند
پنجاب بھر میں شدید دھند، حادثات میں ایک بچہ جاں بحق، 2زخمی، فلائٹ آپریشن معطل اندھا دھند، دھند ہے، اندرونی بیرونی موسم میں ہاتھ کو ہاتھ کیا سجھائی دے گا یار کو یار سجھائی نہیں دیتا، سرشام ہی فضا دھندلانے لگتی ہے، اور بتدریج یہ سلسلہ زور پکڑ جاتا ہے مگر اس عالم میں بھی شادیوں کا زور نہیں ٹوٹا، آتشبازی، ہوائی فائرنگ زرق برق ملبوسات ، چوڑیوں کی جھنکار، پٹاخوں کی بھرمار، گاڑیاں رکشہ دکھائی دیتی ہیں اور رکشہ ایک نقطہ، بارات، دلہن، دولہا، کھانوں کی خوشبو الغرض ماحول متنجن بن جاتا ہے، اسی اندھا دھند، دھند میں ایک دولہا میاں نے غلط ہاتھ پکڑا اور گاڑی کی طرف ہانکتا چلا گیا، بھلا ہو موبائل کی روشنی کا کہ دولہا کو سادہ ہاتھ سے اندازہ ہو گیا کہ وہ مہندی والا ہاتھ نہ جانے کہاں بھول آیا، ویسے بھی ان دنوں سیاست کے ایوانوں، میدانوں اور بند کمروں میں کھچڑی کی جگہ دھند پک رہی ہے، اور تہہ در تہہ دھند ہی دھند ہے، سیاست بھی دلہن بنی ہوئی ہے اور اس کے لچھن ایسے کہ عروس ہزار داماد ہے، دلہن ایک دولہے ہزار، کس کو کس سے ہے سچا سیاسی پیار اس دھند میں کچھ سجھائی نہیں دے رہا، دھند جس قدر بڑھتی جا رہی ہے عروس سیاست سجتی جا رہی ہے، کون بنے گا دولہا اس کے لئے نوبت قرعہ اندازی تک پہنچ سکتی ہے، امریکہ نے امداد بند کر کے دھند میں اتنا اضافہ کر دیا کہ ٹرمپ کو بھارت میں پاکستان دکھائی دینے لگا، دھند فوجی حوالے سے بہت مفید ہوتی ہے، اِدھر کا مال اُدھر اور اُدھر کا اِدھر ہو سکتا ہے، یہ دھند یہ خون جما دینے والی سردی خطرناک بھی ہے دلچسپ بھی، لوگوں نے دھند لاحسن بھی دیکھ لیا، دھندلی سیاست بھی انگیٹھی کا کام دینے لگی ہے، لگتا ہے حکومت بھی کوئی دھندلی سی بنے گی، سنا ہے سخت سردی میں پاگل ٹھیک ہو جاتے ہیں اور عقلمند دیوانے ہو جاتے ہیں، مگر ٹرمپ پر اس کا کوئی اثر نہ ہوا۔
٭٭٭٭
مفت مگر مخلصانہ مشورے
ماہرین کی رائے ہے کہ مہنگائی سے ملک میں سیاسی عدم استحکام بڑھے گا، وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ کمر توڑ مہنگائی حکومتی مقبولیت کی بھی کمر توڑ کر رکھ دے گی، علاج یہ بتایا گیا کہ اگر ٹیکسوں میں تیل کے نرخوں میں کمی کی جائے تو مہنگائی کی کمر توڑی جا سکتی ہے، اور حکومت کی مقبولیت میں اضافہ ہو سکتا ہے، اسی طرح منہ زور سردی میں گیس کی لوڈ شیڈنگ بھی حکومت کی مقبولیت میں خوب ’’اضافہ‘‘ کر رہی ہے، ماہرین نے یہ نہیں بتایا کہ حریف سیاسی قوتوں کا گراف چڑھ سکتا ہے۔ وہ کہہ سکتے ہیں کہ دیکھی حکومت کی ناکامی اور عوام کی جانب اس کی عدم توجہی، ہمیں ووٹ دو ہم تمہیں اتنے نوٹ دیں گے کہ نوٹ نہیں کر سکو گے الغرض حکومت اپنی ادائوں پر ذرا غور بڑھائے تاکہ اس کے حریفوں کو اس کے خلاف دلائل میسر نہ ہوں، ن لیگ اگر ریلیف دے تو اس وقت ٹھنڈا لوہا گرم ہو سکتا ہے، اور وہ چوٹ لگا سکتی ہے، ایک ترکیب یہ بھی ہے کہ مشیروں کی جگہ ضمیروں کو تعینات کرے اس سے بھی کافی افاقہ ہو گا، قلمی مشوروں پر بھی غور کر لیا کریں، کیونکہ قلم کو بالعموم کوئی لالچ نہیں ہوتا، البتہ کچھ خاص قلم ہوتے ہیں ان کی لکیروں کو نہ پیٹیں، اصحاب علم و دانش آج بھی ترقی یافتہ ممالک میں پالیسی ساز ہوتے ہیں اور یہ اہل قلم ہی ہوتے ہیں جو غلط حالات میں ٹھیک ٹھیک مشورے دے جاتے ہیں، مفت کے مشورے ہی مخلصانہ ہوتے ہیں، بازار سے خریدے گئے مشوروں سے بہت سوں کے کباڑے ہوئے ہیں، اور یہ کہ منجی تھلے ڈانگ پھیرنا بھی بہت ضروری ہے، ماہرین نے نہایت کلیدی نکتہ اٹھایا ہے اس پر اب نقطہ نہ ڈال دینا، بے نقط گالی موثر ہو سکتی ہے تو بے نقط مشورے تجاویز اور نکتے تو زیادہ موثر ثابت ہو سکتے ہیں، خریدے گئے مشورے اکثر غلط ہوتے ہیں، کیونکہ جہاں لالچ ہو گا وہاں منہ میں دبائی ہوئی ہڈی بھی ندیا میں گر جائے گی، ن لیگ ایک بڑی سیاسی جماعت ہے، عوام کو خوش کرے عوام اسے خوش کر دیں گے، سب سے آسان کام عوام کو خوش کرنا ہے اور حکومت جانتی ہے عوام کیسے خوش ہوتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں