نئے سال کی آمد۔ خاموشیوں کی تعداد زیادہ ہے

-oنئے سال کی مبارک باد کے بعد، 2017ء سمیت گزرے برسوں کی یادوں اور واقعات میں خاموشیوں کے لمحات کی تعداد بھی کم نہیں، دنیا اپنے قانون کے مطابق آگے ہی بڑھی ہے، لیکن انسانی سفر میں دکھوں کی تعداد کم ہونے میں نہیں آ رہی، شاید اسے ایسا ہی بنایا گیا ہے۔
-oمثلاً دو منٹ کی خاموشی بشمول پاکستان سارے عالم کے ان مظلوموں، بے کسوں، بے گناہوں، مقتولوں اور ستم رسیدوں کے لئے جنہیں اپنے اپنے ملکوں میں ریاستی فورسز کے اَن دیکھے، ثابت شدہ اور غیر ثابت شدہ ظلم و ستم، درندگیوں اور شقاوتوں کا شکار ہونا پڑا۔
-oایک چپ ان لوگوں کے لئے بھی محفوظ رکھو جنہیں اپنے خطوں میں حصول آزادی کی جنگ لڑنی پڑ رہی ہے، اس جنگ میں سینکڑوں، ہزاروں تاریخ کا ذخیرہ جمع کرنے پر لاکھوں بھی کہا جا سکتا ہے، اپنی ساری آرزوئوں سمیت گمنام اندھیروں میں جانا پڑا، کہیں ان کے غلام ہونے پر آواز بلند ہوئی، کہیں ان کی غلامی پر آزادی کے تقاضوں کا غلاف لپیٹ دیا گیا، وہ آزادی کی ایسی لڑائی میں مصروف ہیں جس کی راہوں میں طاقتوروں کے فلسفے ان کے مصائب ختم نہیں ہونے دیتے، ان کی کامیابیاں اور ناکامیاں وہی طے کرتے ہیں۔
-oاور اسی ہنگامے میں اپنے ملک کی سیاست کو بھی فراموش نہ کریں، انتظار کا وہ دیا جلائیں جس کی ٹمٹماتی لو میں کبھی نہ کبھی بہت سی ہونیوں اور اَن ہونیوں کا پتا چل جائے گا، مثال کے طور پر نواز شریف کے پاس موجود وہ تمام شہادتیں، ثبوت اور آڈیوز جن سے اِن ہونیوں اور اَن ہونیوں کے اسرار کا پتا چل جائے گا، ماڈل ٹائون کے سانحہ کی حیرت انگیز حد تک کوئی اور المناک کہانی سامنے آ سکتی ہے، ڈان لیکس کا معاملہ آپ کو انگشت بدنداں کر سکتا ہے؟ جے آئی ٹی پردوں میں چھپے ہوئے قصہ گوئوں کا آرٹ تھا یا ریاست پاکستان میں حق گوئی کا کوئی یادگار باب تحریر کیا جا رہا تھا؟
-oساتھ ہی ساتھ اپنے وطن پاکستان کو تو ویسے بھی سب سے زیادہ یاد کرتے۔ ڈیرہ غازی خان کی اس معصوم اور یتیم بچی کو کبھی نہ بھولنا جسے 27اکتوبر 2017کو برہنہ کر کے گلیوں میں گھمایا گیا، شیطانوں کے لئے جو بددعا بھی یاد ہو وہ ان کے کھاتے میں لکھتے چلے جانا، نہ ہی ملتان کی اس لڑکی کی کہانی تمہارے ذہن سے اترنی چاہئے جسے وہاں کے پنچائتیوں نے ’’انصاف‘‘ کے نام پر زبردستی ریپ کروایا، جب بھی خیال آئے ان دونوں واقعات کے ذمہ داروں سمیت ان تمام لوگوں پر بھی لعنت کا تیزاب پھینکنے میں کوتاہی نہ کرنا جو بلا کسی خوف و خطر ’’غیرت‘‘ کے نام پر قتل کر دیتے ہیں۔ ایسے تمام شیطانوں کی پہلے بربادی، پھر تباہی، اس کے بعد عبرت ناک انجام کے لئے ہاتھ اٹھاتے رہنا۔
-oانسانیت کے احترام اور شیطانیت کے سیاہ چہرے پر تھوکنے کی نیکی کے لئے ڈسکہ اور لاہور کے ان گناہنگار لمحوں کی پیدائش، ان دو بس کنڈکٹروں پر بھی لعنتوں، نحوستوں، بددعائوں اور ذلتوں میں ڈھلے ہوئے القاب کی بارش کر دینا جنہوں نے گونگے بہرے طلباء و طالبات پر اپنی پوری برہنگی کے ساتھ تشدد کیا، ایک نے بس کے پائپ سے ان کی چیخیں نکلوائیں، بالکل ریاست کے اہلکاروں کو یاد نہ کرنا، ان معصوم بچوں کے احترام میں دو بس کنڈکٹروں کو تصور میں لا کر ان پر تھوکو، ان کے وارثوں کو بھی اس صدقے میں شامل کر لینا، غالباً یہ کوئی عصیاں کاری نہیں ہو گی۔
23-o؍ اپریل 2017کو اسلام آباد ایئر پورٹ پر چیخیں مارتی عرش تک پہنچتے آنسووئوں اور آہ و فغاں کی شکار اس بچی کو تا زندگی یاد رکھنا جسے اس ایئر پورٹ پر ایک افسر خاتون اہلکار نے اپنے تھپڑوںاور ٹھڈوں پر رکھ لیا، پھر سارے اکٹھے ہو گئے ان میں سے ایک رذیل پیدائشی بولا ’’ہم گالیاں کھانے کے لئے ہیں‘‘ کوئی انصاف نہ ہو سکا، کسی سچ کی عزت نہ کی گئی، پاکستانی فورسز چاہے وہ سول ہوں یا غیر سول، یاد رکھنا یہ شہریوں پر اکٹھے ہو کر پل پڑتے ہیں اور جب کبھی قربانیاں دیتے ہیں ان کا ناقابل تصور خراج اور لگان وصول کرتے ہیں، مقدس اصطلاحات کے رعب اور انسانوں کی اس معاملے میں بے بسی نے اللہ کی بے اختیار مخلوق کو ایسی بے بسی مقدر کی ہے جس پر ہر لفظ گونگا ہے، فی الحال یوں کرواس افسرخاتون اور اس بچی کے خلاف ان کے اتحاد پر میری طرح سات بار تف بھیجو، آسمان کی جانب نظریں اٹھائو اور اس خاتون اور اس کے ساتھی ریاستی اہلکاروں کے لئے جتنا بُرا سوچ سکتے ہو سوچو، اپنی بے عزتی اور بے وقعتی کا انتقام منحوس پیش گوئیوں کی شکل میں ان تک منتقل کرتے رہو۔
-oاور ضلع گھوٹکی کے اس زیر تربیت اے ایس پی کی بے عزتی کے لئے دنیا بھر کے لفظ جمع کرو، توہین کے انداز میں یہ لفظ اس کے چہرے پر لیپ دو، یہ وہ نفرت کا مستحق خناس ضمیر شخص ہے جس نے گھوٹکی کے ایک امتحانی مرکز میں غیر ملکی حملہ آوروں کی طرح ’’تعلیمی عظمت‘‘ کے نام پر اندھیر گردی مچائی اور ’’نقل‘‘ کے الزام میں دو بچیوں کو پندرہ کلو میٹر دور تھانے میں لے گیا، پاکستان کی ہر فورس کے ریاستی اہلکاروں کی اکثریت 1947سے ہماری عزتوں کے درپے رہی ہے، یہ سب ملے ہوئے ہیں۔ قلمکاروں کی اکثریت فراڈیے اور ہوس پرست ہیں، ان سے کوئی توقع نہ باندھنا چنانچہ آصف بہادر کے لئے کم از کم زبانی لعنت ملامت کا کوئی جملہ باقی نہ رہنے دینا ۔
-oیہ وہ گھڑی ہے جس نے اس پست فطرت اے ایس پی اس افسر کے ساتھ ساتھ دس بارہ برس قبل تھانہ سول لائنز لاہور میں اسی طرح کسی امتحانی معاملے میں، گرفتار کر کے لائی گئیں بچیاں یاد کرا دی ہیں، یہاں جس نے ایسا کیا تھا، وہ پنجابی فورسز کی انسانی تذلیل کی سیاہ کاریوں سے بھری پڑی تاریخ کا کردار تھا بلکہ پنجابی فورسز کے غیر قانونی پاپوں کی مقدار کے لئے نئے برتنوں کی ضرورت ہے، اس لئے پست فطرت اے ایس پی کے ساتھ ساتھ برسوں پہلے کے اس واقعہ پر بھی آسمان کی طرف دیکھو اور ایسے اعمال کے سرخیلوں سے نجات کے سندیسے بھیجو۔
-oیہ وہ موقع ہے جس کے نتیجے میں پاکستان کی ریاستی فورسز 90فیصد سے بھی زیادہ اکثریت کے ڈھائے گئے جبر و ستم اور لوگوں کی گئی توہین کو دنیا کی بدترین تاریخوں میں شمار کرنا اور کچھ نہ ہوسکے تو ان میں سے ایسے ظالموں کے لئے جب بھی یاد آئے حالی کے یہ اشعار دھراتے رہنا؎
ہماری ہر اک بات میں سفلہ پن ہے
کمینوں سے بد تر ہمارا چلن ہے
لگا نامِ آبا کو ہم سے گہن ہے
ہمارا قدم ننگِ اہل وطن ہے
نہیں کوئی ذرہ نجابت کا باقی
اگر ہے کسی میں تو ہے اتفاقی.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں