سر رہ گزر

ہمارےہاں جیسے پائپوں میں گیس ہےپریشر نہیں، ٹرمپ میں پریشر ہے گیس نہیں اور ان شاء اللہ عساکر پاکستان کے شیردل سپہ سالار کے جواب کے بعد ٹرمپ کا پریشر زیرو ہوجائے گا۔ آرمی چیف نے کہا دھمکانے والے سن لیں کوئی طاقت پاکستان کا بال بیکا نہیں کرسکتی۔ ایسی فوج کا سربراہ ہوں جس کے جوان ہردم وطن کے لئے جان دینے کو تیاررہتے ہیں۔ اسلحے ، طاقت اور دولت کا سہارا لینے والے موت سے بہت ڈرتے ہیں۔ اسلام شہیدوں کے مقدس خون سے چاردانگ عالم میں پھیلا ہے اور پھیلتا رہے گا۔ ماضی کی دوسپرپاورز کو ڈھیرکرنے والے ہمارے سربکف مجاہد ہی تھے۔ جس کے حلق میں ایک بار کلمہ ٔ توحید اتر گیا پھر اسے کسی دھونس دھمکی کی پروا نہیں رہی۔ دہشت گردی کے بیج بونے والے آج ہمیں کہتے ہیں ڈو مور۔ نائن الیون کا ہم سےکوئی تعلق نہ تھا مگر اس کو بہانہ بنا کر آج امریکہ جس کے ہر دور پر ہماری وفاداری اور تعاون کی مہریں ثبت ہیں، وہ افغانستان میں منہ کی کھا کر ہمیں ہی گھورتا ہے۔ ٹرمپ یہ بھی جان رکھے کہ یہود کبھی کسی کے نہیں رہے۔ ان کے سہارے، ان کی حمایت سے وہ پورے عالم اسلام کی حمایت و تعاون کھودے گا۔ دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان کا جتنا جانی مالی نقصان ہواہے وہ ٹرمپ امریکہ بیچ کر بھی پورا نہیں کرسکتا۔ اگرامریکی تھنک ٹینکس میں کچھ عقل و فکر ہے تو اپنے دیوانے کو سمجھائیں ورنہ امریکی ساکھ ٹکے کی بھی نہیں رہے گی۔ افغانستان میں مسائل کا حل یہی ہے کہ امریکہ وہاں سے ڈیرہ ڈنڈا اٹھائے مگر شاید یہ سی پیک ہے جس نے ٹرمپ میں ہوا بھر دی ہے۔ پاک فوج باوردی بھی ہے بے وردی بھی۔ 22کروڑ پاکستانی ایک لشکر جرار ہیں۔ ایک آزاد خودمختار اسلامی ریاست کی حدود پامال کرنے کا انجام کیا ہوگا شاید نادان ٹرمپ کو خبر نہیں۔ جتنے پیسے دیئے اورہمارے جس قدر نقصانات ہوئے اس کا حساب لگالے تو امریکہ پاکستان کا مقروض ہے پھربھی ممنون نہیں۔ زمانہ بدل چکاہے۔امریکہ کے عوام اپنے ٹرمپ کو باندھ کر رکھیں وہ نقصان سے بچ جائیں گے۔
٭٭٭٭٭
ایک انوکھا دوسرا لاڈلا
سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے:سازشیں بند کریں ورنہ چارسال کی پس پردہ کارروائیاں بے نقاب کردوں گا۔ ایک جماعت کے ہاتھ پائوں باندھ کر لاڈلے کے لئے راستہ ہموار کیاجارہا ہے۔ مشکل یہ ہے کہ میاں صاحب روز بروز انوکھے اور خان صاحب لاڈلے ہوتے جارہے ہیں۔ انوکھے کےپاس چار سال کے سارے راز، ساری پس پردہ سازشیں محفوظ ہیں اور لاڈلے کے پاس چوہدری فواد، جو لمحہ بہ لمحہ طشت از بام ہو کربھی صیغہ ٔ راز ہیں۔ ہمارا خیال ہے کہ کسی کے پاس کچھ بھی نہیں ماسواایک سنسنی کے اور قوم سنسنی خیز بھارتی فلمیں دیکھ کر، گانے سن کر سُن ہو چکی ہے۔ اس لئے اب سنسنی بھی بے اثر ہے۔ کابینہ اجلاس نے ٹرمپ کے بیان پر اظہار ِ مایوسی کیاہے۔ اسے کوئی پوچھے کہ امید کب تھی کہ اب مایوس ہوں؎
کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسہ
مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی
جب قدیم فارس اور روم جیسی عظیم قوتوں کو ٹوٹی ہوئی تلواروں اور ڈنڈوں سے فتح کیا تھا تو زمانہ جان گیا تھا کہ حق کے سامنے باطل نہیں ٹھہر سکتا۔ بات ہورہی تھی انوکھے اورلاڈلے کی۔ دونوں مشیت الٰہی کا انتظار کریں۔ آسمان جو فیصلہ کرے گا پھر دونوں کو کوئی شکایت نہیں ہوگی۔ یہ ملک قائم رہے گا۔ سی پیک نواز شریف کا ایسا کارنامہ ہے کہ ٹرمپ کو پسو پڑے ہوئے ہیں۔ اوپر سے پاک چین دوستی کی تلوار بھی ٹرمپ کے سر پر لٹک رہی ہے۔ اب اچھا ہے کہ اس خطے سے امریکہ چلا جائے تو شاید اس کا بھرم رہ جائے۔ عمران خان عرف لاڈلا نے تاحال تو کوئی کارنامہ سرانجام نہیں دیا، اس کی گواہ خیبرپختونخوا کی حکومت ہے۔ سیاست قسمت آزمائی ہے بلکہ پنجہ آزمائی بھی۔ 2018کے الیکشن فیصلہ کردیں گے کہ کتنا زور بازوئے میاں و خان میں ہے مگر ایک آخری درخواست میاں صاحب سے کہ سارے راز اب بتا دیں کیا پتا کایا پلٹ جائے۔
٭٭٭٭٭
خداکی لاٹھی بے آواز ہے
زندگی میں ہم سے کئی زیادتیاںبے گناہوں کےساتھ سرزد ہوتی رہتی ہیں۔ جن کی سزا ہم مختلف تکالیف و نقصانات کی صورت بھگتتے رہتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ بس تکلیف ہے ،نقصان ہے، اسے جھیلنا ہوگا۔ یہ نہیں سوچتے کہ ایک آنکھ جو نہ سوتی ہے نہ اونگھتی ہے دیکھتی رہتی ہے، سزائیں دیتی رہتی ہے اگر یہ احساس ہوجائے کہ ہم نے بلاجواز کسی کو اذیت دی، کسی کا نقصان کیا تو شاید ہم ایسا نہ کریں اور انجانی آزمائشوں اور مصیبتوں سے بچے رہیں مگر ہم بالعموم ایسا نہیں کرتے کہ عبرت پکڑیں۔ ہمیں وعظ، نصیحت کرنے والے بھی سب کچھ بتاتے ہیں مگراس خاموش کارروائی سے خبردار نہیں کرتے۔ چین میں ایک شخص نے 12 برس پہلے اپنی بیوی کے رشتہ دار کوپیسوں کے لین دین پر قتل کردیا۔ اس کے بعدوہ 12سال خاموش رہا اور 12برس کے بعد بولنے کی کوشش کی تو بول نہ سکا۔ وہ مکمل گونگا ہوچکا تھا۔ یہ ہے وہ بے آواز لاٹھی جو پڑتی ہے آواز نہیں دیتی۔ ایک نظام عدل بھی جاری و ساری ہے۔ یہ دنیا دارالمکافات ہے۔ اس کے بعد قبر کی چیک پوسٹ ہے اور اس کے بعد حتمی اور حقیقی سپریم کورٹ جس کی ڈسپوزل پر جنت بھی ہے دوزخ بھی۔ ہمیں خاموش چیک پوسٹ سے لے کر آخری عدالت تک کو ذہن میں رکھناچاہئے۔ یہی نظام کائنات ہے جس میں کوئی تبدیلی نہیں۔ رائی کے دانہ برابراچھائی برائی سامنے آجائے گی۔ کوئی چھوٹ نہیں، کوئی سفارش نہیں، کوئی رشوت نہیں، کوئی دلیل نہیں،گواہی نہیں، اعضا بھی گواہی دیں گے، گناہ بھی بولے گا۔ زمین کا وہ ٹکڑا بھی بولے گا جس میں گناہ کیا۔ ہمارے پاس اللوں تللوں سے نکل کرخود کو غیبی سزائوں سے محفوظ کرنے کے لئے بڑاموقع ہے۔آخری سانس سےپہلے سوچ لینا چاہئے کہ ہماری وجہ سے کسی کا سانس تو نہیں رک رہا، کمرۂ امتحان کو مستقل گھر سمجھ کر مستقل رہائش کے لئے ساز وسامان اکٹھاکرنا نادانی ہے۔ بچنا ہے تو بچ جائو خدا کی لاٹھی بے آواز ہے۔
٭٭٭٭٭
الائچی دانے
O۔ شیخ رشید:نواز شریف کو عمران کی ضمانت پر بہت تکلیف ہوئی۔
اپنی تکلیف کا تو کبھی پتا نہ چلا نوازشریف کی تکلیف کیسے معلوم ہوئی۔
O۔ امریکی صدر کے مشیر ساجد تارڑ:ٹرمپ کا کہا حرف ِ آخر نہیں معاملات بہتر ہوسکتے ہیں۔
تارڑ اگر مشیر ہیں تو ٹرمپ تو ہمارے ایک چھوٹے سے شہر حافظ آباد کی مار ہیں۔ بہرحال تارڑ صاحب ہمیں بتا دیا کہ ٹرمپ ایسے پھوکے فائر مارتا رہتا ہے۔ آپ فکر نہ کریں۔ وہ پہلے سے بڑھ کر تعاون کرے گا۔ ویسے میڈیا کو ساجد تارڑ کی زندگی سے متعلق ایک تعارفی پروگرام کسی چینل پر دکھا دینا چاہئے۔ اگر ٹرمپ کا مشیر تارڑ ہے تو ممکن ہے ٹرمپ بھی مقامی ہو، تحقیق کرنی چاہئے۔
O۔ عمران:نوازشریف کرپشن بچانے کے لئے ملک کا سودا کر سکتے ہیں۔
کیا تب پاکستان آپ خریدیں گے؟ انسان کو دوسرے انسان بارے غیرانسانی حد تک نہیں جانا چاہئے۔
O۔ نوازشریف کمرۂ عدالت میں الائچی کے دانے چباتے رہے۔
کیا اس میں بھی کوئی کنٹیمپٹ ہے؟.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں