ناں سائیں ناں

بڑی پرانی بات ہے۔ 1991ء کا سال تھا۔ پولیس سروس کے ایک ساتھی مجھے اپنے ساتھ ملک آصف مرحوم کے گھر لے گئے۔ آصف اُن دنوں حکومت پنجاب میں ڈی آئی جی ٹیلی کمیونیکیشن تعینات تھے۔ لاہور میں اُن کے گھر اُس شام مختلف سیاسی پارٹیوں سے وابستہ سیاستدان مدعو تھے۔ سیاست اُن دنوں بھی دلچسپ موضوع تھا اور محفل میں اِسی پر اظہارِ خیال ہوتا رہا۔
ایک سال پہلے بے نظیر بھٹو کی حکومت کو صدر پاکستان، آئین کے آرٹیکل 58(2)Bکے تحت گھر بھیج چکے تھے۔ نئے الیکشن کے بعد وزیراعظم کا عہدہ نواز شریف کے پاس تھا۔ بے نظیر بھٹو کے شوہر آصف علی زرداری گرفتاری کے بعد مختلف مقدمات کا سامنا کر رہے تھے۔ دورانِ گفتگو ایک سیاستدان نے اندر کی خبر دی۔ سب کے کان کھڑے ہو گئے۔ اُن کی خبر کے مطابق بے نظیر بھٹو نے وزیرِ اعظم کو پیش کش کی تھی کہ اگر اُن کے شوہر ضمانت پر رہا ہو جائیں اور مزید مقدمے قائم نہ ہوں تو پیپلز پارٹی آئین کے آرٹیکل 58(2)Bکو ختم کرنے کے لئے حکومت کا ساتھ دے گی۔
اِس موضوع پر بات شروع ہوئی تو ضیاء الحق کی آئینی ترامیم کے پس منظر تک جا پہنچی۔ پیپلز پارٹی کے ایک جمہوریت پسند سیاستدان کا خیال تھا کہ ڈکٹیٹر صرف جی حضور کہنے والے سیاستدانوں کو پسند کرتے ہیں۔ ایوب خان نے ایبڈو کے قانون کو استعمال کرتے ہوئے ناقابلِ اعتبار سیاستدانوں کو باہر رکھا۔ جونیجو کے خلاف کوئی سکینڈل نہیں تھا۔ ضیاء الحق نے اُنہیں صرف افغان پالیسی پر اختلاف کی وجہ سے گھر بھیجا۔ بے نظیر بھٹو کو حکومت ملی تو پہلے تحریک عدم اعتماد کے ذریعے ہٹانے کی کوشش ہوئی۔ ناکامی کی صورت میں آرٹیکل 58(2)B استعمال میں آیا۔ گفتگو سے نتیجہ نکلا کہ ڈکٹیٹر کو بے لگام جمہوریت قبول نہیں ہوتی۔ اگر سیاستدانوں کو حکومت سونپنے کی مجبوری ہو تو تب بھی وہ گھوڑے کی راس اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتا ہے۔
پھر 1985ء میں سیاسی حکومت کی مشروط بحالی کا ذکر ہوا۔ غیر جماعتی الیکشن کے بعد ضیاء الحق نے 58(2)B اور آرٹیکل 62/63کی ترمیم کو انتقال اقتدار سے پہلے آئین میں شامل کروایا۔ مقصد تھا کہ جب چاہے کسی سیاستدان کو یا پوری اسمبلی کو فارغ کر دیا جائے۔ ایک اور رائے آئی کہ سیاستدانوں کے لئے بہت اچھا موقع ہے کہ وہ اپنے مفاد میں اِن ترامیم کو نکال کر آئین کو اصل حالت میں بحال کر دیں۔
مسلم لیگ (ن) کے ایک اہم سیاست دان وہاں موجود تھے۔ وہ خاموشی سے شرکاء کی گفتگو سے لطف اندوز ہوتے رہے۔ پیپلز پارٹی کے ایک حمایتی نے اُنہیں کہا ’’جلد یا بدیر میاں نواز شریف بھی نافرمانی کر بیٹھیں گے، مشورہ مانیں اور 58(2)Bکی لٹکتی تلوار کو ہماری معاونت سے ختم کر دیں۔‘‘ مجھے آج بھی اُن صاحب کا ردِعمل یاد ہے۔ وہ مسکرائے اور پھر خالص ریاستی لہجے میں کہا ’’ناں سائیں ناں۔ جنھاں دی وجہ نال اے لہر بہر قائم اے، اُو ای کتھاں ناراض نہ تھی ونجن‘‘ پتہ نہیں اُن کا اشارہ کس طرف تھا۔ وہ کس طاقت کو مسلم لیگ کے اقتدار کی ’’لہر بہر‘‘ عطا کرنے کا ذمہ دار سمجھ رہے تھے۔ یہ بھی واضح نہ تھا کہ وہ کسے ناراض نہیں کرنا چاہتے تھے۔ مگر اُن کی بات سے سیاست میں ایک خاص طرز کی سوچ عیاں ہوتی تھی۔
1993ء میں 58(2)Bکے تحت مسلم لیگ کی حکومت کو گھر بھیج دیا گیا۔ پھر یہی ہتھیار پیپلز پارٹی کے خلاف 1996ء میں دوبارہ استعمال ہوا۔ ہر دفعہ مخالف سیاسی جماعت نے حکومت کو چلتا کرنے کی حمایت کی۔ پاکستانی سیاست پر غور کرنے والوں کے لئے حیرت کی بات تھی کہ جو ہتھیار بار بار اُن کے خلاف استعمال ہو رہا تھا، وہ اُسے باہمی سمجھوتے سے ختم نہ کر سکے۔ آخر کار 1997ء کے الیکشن میں مسلم لیگ (ن) کو دوتہائی اکثریت ملی تو 58(2)Bکا خاتمہ ہوا۔
صدر مشرف نے اقتدار سنبھالا تو پیپلز پارٹی نے مارشل لا کا جواز، مسلم لیگ (ن) کی بُری حکمرانی کے الزام میں تلاش کر لیا۔ چند سال بعد دونوں پارٹیوں کو سیاست سے باہر رکھنے کا اہتمام ہوا تو لندن میں میثاقِ جمہوریت پر اتفاق ہو گیا۔ جمہوریت پسند دانشوروں نے اِسے سیاسی بلوغت کا اظہار سمجھا مگر بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد، سیاست دان میثاقِ جمہوریت کو بھول گئے۔
2012ء میں پیپلز پارٹی کی حکومت کو حکم ہوا کہ آصف زرداری کے خلاف سوئس حکومت سے کیس چلانے کے لئے رجوع کیا جائے۔ حکومت کا مؤقف تھا کہ صدرِ پاکستان کو استثنیٰ حاصل ہے۔ اِس بنا پر یوسف رضا گیلانی کو تو ہینِ عدالت کے جرم میں چند سیکنڈ کی سزا ملی اور وہ عدالتی حکم کے تحت سبکدوش ہو گئے۔ پیپلز پارٹی نے اُن کی جگہ راجہ پرویز اشرف کو وزیر اعظم بنا دیا۔ اِس سارے فسانے میں حیرت کی بات تھی کہ مسلم لیگ (ن) نے عدالت کے فیصلے کو سراہا۔ قومی مفاد کا تقاضا تھا کہ ایوانِ انصاف کی سیاست کے خارزار میں آمد کو خوش آمدید نہ کہا جاتا۔ مسلم لیگ (ن) کی حوصلہ افزائی سے عدالتی مداخلت کے رجحان کو تقویت ملی۔ آنے والے وقت کی دُشواریوں کو مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے وقتی مفادات کی دلکشی میں نظرانداز کر دیا۔
2013ء میں مسلم لیگ (ن) کی قائم ہونے والی حکومت نے جوں توں کر کے چار سال گزار دیئے اور پھر ایک تکنیکی بھول سے وزیرِ اعظم کی صداقت پر حرف آ گیا۔ آئین کے آرٹیکل 62/63کے بارے میں نہ صرف عدلیہ کے جج بلکہ اہم سیاستدان متفق ہیں کہ کسی عام مسلمان کا اِس پیمانے پر پورا اترنا ممکن نہیں۔ یہ دونوں آرٹیکل بتیس سال کے ہو چکے ہیں۔ اِس دوران آئین میں بارہا ترامیم ہوئیں۔ سیاستدان اِس خام سوچ میں مگن رہے کہ شاید یہ ہتھیار زنگ آلود ہو کر طاقِ نسیاں کی نذر ہو چکا ہے۔ لوگ دیکھ رہے ہیں کہ 1980ء اور 1990ء کی دہائی میں 58(2)Bکا خاتمہ تو بار بار نقصان اٹھانے کے باوجود، باہمی سمجھوتے سے نہ ہوسکا۔ کیا اتنے سال گزرنے کے بعد سیاسی بلوغت اِس سطح پر آ چکی ہے کہ قائدین اِس لٹکتی تلوار کا علاج کر لیں؟
کہتے ہیں کہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا مگر پاکستان کی سیاسی تاریخ سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیاست کے دماغ میں اجتماعی شعور کا فقدان ہے۔ اگر حالات اسی ڈگر پر چلتے رہے تو مستقبل میں ہمارے قائدین جنوبی پنجاب کے اُسی سیاستدان کی طرح ’’ناں سائیں ناں‘‘ کا ورد کرتے رہیں گے۔ عدالتیں صداقت اور امانت کے سرٹیفکیٹ عنایت کریں گی اور اِس امتحان میں پاس ہونے والے سیاستدان سکول کے بچوں کی طرح خوش ہو کر مخالفین پر مزید تہمتیں لگائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں