قادری اور نواب زادہ نصر اللہ

سابق صدر آصف زرداری فرماتے ہیں کہ علامہ طاہر القادری نے نواب زادہ نصر اللہ کی کمی پوری کردی ہے۔زرداری صاحب کی پالیسیوں سے ہمیشہ اختلاف رہا ہے مگراس کے باوجود انہیں زیرک سیاستدان سمجھتا ہوں۔آصف زرداری سے ایسے بیان کی توقع نہیں کی جاسکتی ۔بہرحال مشرف آمریت،لال مسجد آپریشن،ایمرجنسی،ججز برطرفی جیسے واقعات پر بھی میرے خیال میں نوابزادہ نصراللہ مرحوم کی روح نہیں کانپی ہوگی،جتنا زرداری صاحب کے اس بیان سے انہیں ٹھیس پہنچی ہوگی۔نواب صاحب اور قادری کا موازنہ تو دور کی بات ہے ایسا گمان بھی کرنا غلط ہے۔نواب زادہ نصراللہ پاکستان کی جمہوری تاریخ کا اہم باب ہیں ،نواب صاحب نے اپنی ساری زندگی جمہوریت کو مضبوط کرنے میں گزار دی جبکہ قادری صاحب نے گزشتہ پانچ سالوں میں ہمیشہ کمزور ہی جمہوریت کو کیا ہے۔نوابزادہ نصراللہ کا سیاسی قد کاٹھ یہ تھا کہ وہ پاکستان کے کئی حلقوں سے کامیاب ہونے کی پوزیشن میں تھے۔جبکہ قادری صاحب رکن اسمبلی بننے کا صرف خواب ہی دیکھ سکتے ہیں۔نوابزادہ نصراللہ ہمیشہ آمروں سے لڑتے رہے جبکہ قادری صاحب ہمیشہ آمروں کی بیساکھی رہے۔نواب صاحب کی ساکھ کا یہ عالم تھا کہ بے نظیر بھٹو شہید اور نوازشریف بیک وقت نواب صاحب کی بات کو نہ صرف وزن دیتے تھے بلکہ اندھا اعتماد کرتے تھے۔جبکہ قادری صاحب کی زندگی تضادات اور غلط بیانی سے بھری پڑی ہے۔قادری صاحب کے بارے میں تاثر ہے کہ وہ مذہب کی آڑ میں سیاست کرتے ہیں جبکہ نوابزادہ نصراللہ سیاست کو بطور آلہ استعمال کرتے تھے۔افسوس ہوتا ہے کہ آج زرداری صاحب جیسا مدبر آدمی بھی نوازشریف سے اختلاف میں قادری کے پیچھے چل پڑا ہے۔یہ بات درست ہے کہ دشمن کا دشمن بھی دوست ہوتا ہے،مگر قادری سمیت تمام قوتوں کا نوازشریف کے بعد دشمن آصف زرداری ہے۔الزامات کی سیاست اور مقابلہ بازی اپنی جگہ پر مگر قادری صاحب کا اور جناب نوابزادہ نصر اللہ کا موازنہ مناسب نہیں ہے۔کم ازکم زرداری صاحب سے ایسی توقع نہیں کی جاسکتی تھی۔عمران خان اگر یہ بات کہتے تو سمجھ آجاتی کہ انہیں پاکستان کی سیاسی تاریخ کا پتہ نہیں ہے۔انہوں نے کبھی نوابزادہ نصراللہ کے ساتھ مل کر باضابطہ جدوجہد نہیں کی مگر ذوالفقار علی بھٹو کا داماد اور بے نظیر بھٹو کا شوہر یہ بات کہے تو اس کی اہمیت بھی بہت ہوتی ہے اور اس پر مناسب تنقید بھی بنتی ہے۔
بہرحال طاہر القادری کی اے پی سی کی صورت میں حکومت کے خلاف آخری اور حتمی وار تیار ہے۔طاہر القادری کے مخالفین کہتے ہیں کہ وہ ہمیشہ کی طرح آلہ کار کا کردار اداکررہے ہیں۔دوستوں کے کہنے پر قادری اور عمران ایک مرتبہ پھر ساتھ بیٹھے ہیں ،باقی جماعتیں بھی اس آس میں ہیں کہ شاید انہیں بھی کچھ حصہ مل جائے۔زرداری صاحب کی بھی کیفیت ایسی ہی ہے۔طاہر القادری کی ساکھ ساری دنیا کے سامنے ہے۔کوئی ذی الشعور شخص ان پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں ہے۔طاہر القادری ایک مرتبہ پھر استعمال ہورہے ہیں۔2013اورپھر 2014کے دھرنوں میں ہنڈیا بیچ چوراہے پھوٹ چکی ہے۔اب بھی کچھ ایسا ہی ہوگا۔اسلام آباد کی شاہراہ دستور کو چھ ماہ تک کیوں بند رکھا گیا ؟پاکستان کا ہر شہری جانتا ہے۔پی ٹی وی،پارلیمنٹ اوردیگر ریاستی عمارتوں پر حملہ کرنا اور آج تک قانون کی گرفت میں نہ آنا سب کے سامنے ہے۔طاہر القادری اور عمران خان کے 2014کے کردار پر بہت کچھ لکھا جاچکا ہے اور آئندہ بھی بہت کچھ لکھا جائے گا۔مگر اس ساری صورتحال میں نقصان میرے پاکستان کا ہوا ہے۔ ہمارے ’’دوستوں‘‘ کا سارا بھرم ٹوٹ چکا ہے۔اب یہ باتیں راز نہیں رہی ہیں ،کہ کس کے کہنے پر حکومت کے خاتمے کی تاریخیں دی جاتی رہیں اور پھر کس کے کہنے پر چند گھنٹو ں میں دھرنا ختم کرکے اے پی سی میں شرکت کی گئی۔
افسوس ہوتا ہے کہ قمر الزمان کائرہ اور خورشید شاہ جیسے سرخیل بھی طاہر القادری کے احترام میں سر جھکا کر بیٹھے ہوئے تھے۔آج مسئلہ نوازشریف کا نہیں ہے بلکہ جمہوریت کے خلاف استعمال ہونے والی کٹھ پتلیوں کا ہے۔گزشتہ دو سال کے دوران پیپلزپارٹی کے ساتھ جو کچھ ہوا ۔میں ذاتی دور پر اس کا شدید ناقد ہوں۔آصف زرداری کی پشاور میں گرج دار تقریر کے بعد نوازشریف کو ملاقات منسوخ نہیں کرنی چاہئےتھی،ڈاکٹر عاصم کے خلاف کرپشن کیسز کا معاملہ سمجھ میں آتا ہے مگر ڈاکٹر عاصم کو دہشتگرد قرار دینا افسوسناک تھا۔نوازشریف کو بطور وزیراعظم ایسے فیصلوں میں رکاوٹ ڈالنی چاہئے تھی۔ماضی میں بالاغلطیوں پر جتنا اس خاکسار نے لکھا ہے،شاید ہی کسی نے لکھا ہو۔آئی جی سندھ ایک شریف آدمی ہیں مگر جس طریقے سے وہ سندھ میں براجمان ہیں۔وہ قابل قبول نہیں ہے۔صوبے کے چیف ایگزیکٹو کی مرضی کے خلاف ایسا ہوتو ایسی بے بسی پر شرم آتی ہے۔اگر یہی معاملہ خیبر پختونخوا میں ہوتا تو بھی میرا یہی موقف ہوتا۔سویلین بالادستی اور جمہوریت کی مضبوطی کے لئے ضروری تھا کہ اگر سندھ حکومت آئی جی سندھ کو قبول نہیں کررہی تھی تو سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کو فوری انہیں سرنڈر کردینا چاہئے تھا۔ذاتی طور پر آئی جی سندھ کی قدر کرتا ہوں مگر جہاں معاملہ سویلین بالادستی کا ہو ،وہاں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرنا چاہئے۔پیپلزپارٹی کے نوازشریف سے بہت سے شکوے جائز ہیں۔مگر ان شکوئوں کے انتقام میں زرداری صاحب جو کچھ کررہے ہیں،یہ بھٹو کی پیپلزپارٹی نہیں ہوسکتی۔ آج زرداری پی پی پی کو حتمی طور پر گڑھی خدا بخش لے کر جارہے ہیں۔بس یہ طے کرنا باقی ہے کہ بھٹو صاحب کی پی پی پی کا مسکن بی بی شہید کے پہلو میں ہوگا یا پھر بھٹو شہید کے قدموں میں۔نوازشریف کے خلاف مضبوط سیاسی حکمت عملی تیار کرنا پی پی پی کا اولین ٹارگٹ ہونا چاہئے۔آئندہ اقتدار کی دوڑ میں شامل ہونے کے لئے مسلم لیگ ن کے خلاف جارحانہ حکمت عملی پی پی پی کی بقا کے لئے ضروری ہے۔مگر کسی کا آلہ کار بن کر طاہر القادری جیسے مہرے کے پیچھے کھڑے ہونا بہت تکلیف دہ ہے۔پی پی پی جیسی جماعت میں طاہر القادری سے کئی گنا بڑے قد کاٹھ کے درجنوں نہیں سینکڑوں لوگ موجود ہیں۔مگر زرداری صاحب کی جماعت اس قدر بے بسی کے ساتھ کینیڈین پلٹ علامہ کے سامنے گھٹنے ٹیک دے گی،یقین نہیں آیا۔زرداری صاحب کی جماعت اس لئے لکھا ہے کہ بھٹو صاحب کی جماعت تو ایسا خواب میں بھی تصور نہیں کرسکتی تھی۔وہ جماعت جس نے پچاس سال مزاحمت اور بائیں بازو کی سیاست کرتے ہوئے گزار دی۔ آج بیوپاریوں کے سامنے سسک رہی ہے۔پی پی پی سے خوب انتقام لیا جارہا ہے۔جبکہ ایک زرداری صاحب ہیں جو کہتے ہیں کہ طاہر القادری کی صورت میں نوابزادہ نصر اللہ کی کمی پوری ہوگئی ہے۔کاش اس بیان کے وقت بی بی شہید زندہ ہوتیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں