مجبوری کی حکومت؟ انجام کیا ہوگا؟

پاکستان میں عام انتخابات کے تقریباً دو ہفتے بعد ملک میں سیاسی غیر یقینی کی صورتحال بالآخر ختم ہو رہی ہے کیونکہ پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی نے دیگر جماعتوں کے ساتھ مل کر اتحادی حکومت بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

ان جماعتوں کی متوقع اتحادی حکومت کو جہاں’پی ڈی ایم ٹُو‘ کا نام دیا جارہا ہے وہیں اب مزید سوالات بھی پیدا ہو رہے ہیں کہ کیا یہ حکومت کامیابی سے چل سکے گی؟

اگر ماضیِ قریب پر نظر ڈالی جائے تو پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کا 16 سیاسی جماعتوں پر مشتمل اتحاد 2022 میں سابق وزیرِ اعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کا ووٹ لانے میں کامیاب ہوا تھا جس کے بعد اسی اتحاد کی 16 ماہ چلنے والی حکومت کا شمار سیاسی تجزیہ کار اور ناقدین پاکستان کی سیاسی تاریخ کی سب سے غیرمقبول حکومتوں میں کرتے نظر آئے۔

آٹھ فروری کے عام انتخابات کے نتائج آنے کے بعد جہاں مسلم لیگ کی جانب سے وفاق میں حکومت سازی کے حوالے سے واضح دلچسپی سامنے آئی وہیں پیپلز پارٹی ایسی کسی کوشش سے گریزاں دکھائی دی۔

تاہم بات چیت کے متعدد ادوار کے بعد منگل کی شب دونوں جماعتوں کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی ملک میں اگلی حکومت بنائیں گی اور نئے حکومتی اتحاد کے تحت شہباز شریف وزارتِ عظمیٰ جبکہ آصف علی زرداری عہدۂ صدارت کے لیے دونوں جماعتوں کے مشترکہ امیدوار ہوں گے۔

دونوں جماعتوں نے اتفاق کیا ہے کہ قومی اسمبلی کا سپیکر مسلم لیگ ن جبکہ ڈپٹی سپیکر پیپلز پارٹی سے ہو گا جبکہ ایوانِ بالا یعنی سینیٹ میں چیئرمین پیپلزپارٹی سے جبکہ ڈپٹی چیئرمین کی نشست ن لیگ کے پاس ہو گی۔

نئے حکومتی فارمولے کے تحت خیبر پختونخوا اور پنجاب کا گورنر پیپلز پارٹی سے ہو گا جبکہ بلوچستان اور سندھ میں گورنر نون لیگ کے ہوں گے۔

پی پی پی، پاکستان پیپلز پارٹی، ن لیگ، پاکستان، پی ڈی ایم
،تصویر کا کیپشنپی پی پی نے صدر کے عہدے کے لیے آصف زرداری کو نامزد کیا ہے

’یہ اتحاد ایک کٹھن سفر ہو گا‘

نئے حکومتی اتحاد کے اعلان کے ساتھ ہی یہ سوالات بھی اٹھنے لگے ہیں کہ یہ شراکت کتنی دیرپا اور کامیاب ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ ماضی قریب میں دونوں جماعتوں کے رہنما ایک دوسرے کی قیادت اور پالیسیوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔

مسلم لیگ ن کے سینیٹرعرفان صدیقی کا کہنا ہے کہ ’اگر صحیح بات کی جائے تو یہ ایک کٹھن سفر ہوگا۔‘

بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’اس سے پہلے کی پی ڈی ایم میں 16 جماعتوں کا اتحاد تھا۔پچھلے اتحاد میں اتفاق تھا۔ اس بار مسلم لیگ ن کے علاوہ دیگر جماعتیں کشتی میں سوار ہونے کی بجائے ساحل پر کھڑا ہونا چاہتی ہیں اور ساحل پر کھڑا ہونے والا تماشہ دیکھنے والوں میں سے ہوتا ہے، ساتھ دینے والوں میں سے نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک کہاوت ہے کہ ’سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا اور میں نے اس میں اضافہ کیا ہے کہ اس میں حیا بھی نہیں ہوتی۔‘

سینیٹر عرفان صدیقی سمجھتے ہیں کہ ملک میں اگلی متوقع حکومت ’اکثریتی‘ نہیں بلکہ ’اقلیتی‘ ہو گی۔

وہ کہتے ہیں کہ ’صورتحال کچھ یوں ہے کہ اگر ہم آئی ایم ایف کی سفارشات کو دیکھتے ہوئے کوئی سخت قانون سازی کرتے ہیں تو پیپلز پارٹی تنقید کرے گی۔ اگر ہم پیٹرول کی قیمت بڑھاتے ہیں تب بھی تنقید کرے گی۔‘

انھوں نے نئی حکومت کو در پیش چیلنجز گنواتے ہوئے کہا کہ سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ ہمارے ایجنڈے مختلف ہیں، جو ایک دوسرے سے متصادم ہیں۔

’مثال کے طور پر ہم نجکاری کی بات کرتے ہیں اور پیپلز پارٹی نجکاری کے سخت خلاف ہے اور ان معاملات کو دیکھتے ہوئے جب ہم اپنے منشور پر چلیں گے تو اختلافات پیدا ہوں گے۔ جس سے باقی جماعتیں فائدہ اٹھاتے ہوئے اسمبلی تحلیل کروا سکتی ہیں۔‘

تاہم عرفان صدیقی نے کہا کہ ’مسلم لیگ ن پیپلز پارٹی سے سیاسی بُردباری کی امید رکھتی ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’ہمیں اس وقت اپنے اختلافات دیکھنے کی بجائے ان باتوں کو زیرِ غور رکھنا ہے جو ہمیں جوڑتی ہیں۔

’یہ اتحاد بہتر چلے گا کیونکہ اتحادی جماعتیں کم ہیں‘

لیکن دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی سمجھتی ہے کہ نیا حکومتی اتحاد گذشتہ حکومت سے بہتر ہو گا۔

پیپلز پارٹی کے ترجمان فیصل کریم کُنڈی نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ’حالیہ اتحاد گذشتہ اتحاد سے قدرے بہتر ہے۔ ماضی میں عدم اعتماد کے وقت ہمارے پاس اکثریت نہیں تھی اور ہمارا آپسی اشتراک بھی اتنا اچھا نہیں تھا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اس بار ہم نے مسلم لیگ ن کے ساتھ مل کر باقاعدہ طور پر چیزوں پر اتفاق کیا ہے اور اس بار جمیعت علماِئے اسلام اور مینگل صاحب کی پارٹی بھی اس میں شامل نہیں۔ اس وقت حکومت میں مسلم لیگ ن کے وزرا ہوں گے، ایم کیو ایم کے ہوں گے اور اِکّا دُکّا اور ہوں گے۔ ہم کابینہ کا بھی حصہ نہیں۔‘

فیصل کریم کُنڈی نے کہا کہ ’پہلے کے مقابلے میں یہ اتحاد بہتر چل سکے گا کیونکہ اتحادی جماعتیں کم ہیں۔ معیشت پر دھیان دینے کے لیے اس وقت فوری کام کرنا ہے جس کے لیے دونوں جماعتوں کے بیچ اتفاق ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’زرداری صاحب کو صدر بنانے کا یہ فائدہ ہے کہ وہ پہلے بھی صدر رہ چکے ہیں اور اس کے نتیجے میں مفاہمت کی سیاست ان سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔ ان کی بات تمام بڑی جماعتیں سنتی ہیں جس کی وجہ سے وہ سب کو ایک پیج پر لاسکتے ہیں۔‘

مسلم لیگ ن کے عرفان صدیقی کی جانب سے تنقید پر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ ’جو ہمارا 16 ماہ کا تجربہ تھا اس میں ہمیں بھی شکایات تھیں کہ ہمیں ترقیاتی سکیم نہیں مل رہی تھیں۔ ہم نے کہا کہ ہمیں پنجاب میں سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ پختونخوا میں بھی ہمارے تحفظات تھے۔ مسلم لیگ ن کہہ رہی تھی کہ اتحادی جماعتیں ہمیں حصہ نہیں دے رہی ہیں۔ تو اس لیے اس بار ہم سب ساتھ بیٹھ گئے کہ حکومت بنائیں اور وزارتیں بانٹیں اور ہم ان کی حمایت کریں تاکہ ملک کو بحران سے نکال سکیں۔‘

پی پی پی، پاکستان پیپلز پارٹی، ن لیگ، پاکستان، پی ڈی ایم
،تصویر کا کیپشنن لیگ کی جانب سے وزارتِ عظمیٰ کے لیے شہباز شریف کو نامزد کیا گیا ہے

صدر ایک بار پھر سیاسی منظر نامے پر

تجزیہ کار اور صحافی ضیغم خان ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’اتحاد تو ان ہی دو جماعتوں کا بننا تھا کیونکہ پاکستان تحریکِ انصاف ان کے ساتھ حکومت نہیں بنانا چاہتی تھی۔‘

ان کے مطابق نئے حکومتی اتحاد کو اندرونی سے زیادہ بیرونی چیلنجز درپیش ہوں گے۔

’سب سے پہلے تو اسٹیبلشمنٹ سے جھگڑے کا ڈر ہے کیونکہ ماضی میں بھی ایسا ہوا کہ کچھ دن کے بعد اختلافات سامنے آئے تھے۔‘

انھوں نے کہا کہ دوسرا چیلنج یہ ہے کہ عمران خان اور ان کی جماعت سے کیسے نمٹیں گے۔

انھوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کی پچھلی حکومت کا ریکارڈ اتنا بُرا بھی نہیں تھا۔ ’ان کی خارجہ پالیسی عمران خان کی حکومت سے قدرے بہتر اور بالکل جارحانہ نہیں تھی۔ ماحولیات پر بھی انھوں نے اچھی بحث جاری رکھی۔ اگر وہ حکومت کہیں بری طرح ناکام ہوئی تو وہ معیشت تھی۔‘

ان کے مطابق آصف علی زرداری کو صدر بنانے کے بعد ’جوڑ توڑ کی سیاست‘ ایک بار پھر سامنے آئے گی جو ’صرف ن لیگ کے لیے نہیں بلکہ بلکہ اسٹیبلشمنٹ کے لیے بھی سیٹ بیک ثابت ہو سکتی ہے۔‘

اس بارے میں مزید بات کرتے ہوئے صحافی و تجزیہ کار نصرت جاوید نے کہا کہ ’اب تک ہمارے ہاں صدر کا عہدہ ایک ٹوکن یا علامتی عہدہ سمجھا جاتا تھا لیکن اپریل 2022 کے بعد سے ہونے والے تمام تر بحران سے یہ ثابت ہوا کہ اگر صدر چاہے تو بحران پیدا بھی کر سکتا ہے اور بحران ختم بھی کرسکتا ہے۔‘

انھوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ’صدر اگر چاہے تو اچانک سے فائل اٹھا کر وزیرِ اعظم سے مشورہ کرنے جا سکتا ہے کہ اگلا آرمی چیف کون ہو گا؟ پوری دنیا کو پتا ہے کہ اس پر صرف صدر کے دستخط چاہیے ہوتے ہیں اور اگر چاہے تو سیاسی طور پر اسٹیبلشمنٹ سے تعلقات سنوار کر بھی رکھ سکتا ہے۔ یہ عہدہ موجودہ صدر عارف علوی نے اہم بنا دیا ہے۔‘

انھوں نے حالیہ اتحاد کے بارے میں کہا کہ ’شہباز شریف اور آصف زرداری منجھے ہوئے سیاستدان ہیں اور اس وقت ان دونوں کو ایک دوسرے کی ضرورت ہے۔‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.