نئے حکمراں اتحاد میں کس جماعت کو کون کون سا عہدہ ملے گا؟

پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان بظاہر حکومت سازی اور شراکت اقتدار کا فارمولہ طے پا گیا ہے لیکن ہر گزرتے دن کے ساتھ اس میں نئے کردار بھی شامل ہوتے جا رہے ہیں۔
دونوں جماعتوں کے درمیان طے شدہ فارمولے کے خدوخال کے مطابق پیپلز پارٹی کے آصف علی زرداری صدر اور مسلم لیگ ن کے شہباز شریف وزیراعظم ہوں گے۔
چیئرمین سینیٹ پیپلز پارٹی کا جبکہ سپیکر مسلم لیگ ن سے ہو گا۔ اسی طرح ڈپٹی چیئرمین سینیٹ ن لیگ سے جبکہ ڈپی سپیکر قومی اسمبلی پیپلز پارٹی سے ہو گا۔
پاکستان پیپلز پارٹی کو پنجاب اور خیبر پختونخوا کی گورنری جبکہ ن لیگ کو سندھ اور بلوچستان کی گورنری ملے گی۔ اب اس کا انحصار ن لیگ پر ہے کہ وہ سندھ اور بلوچستان کی گورنرشپ خود رکھتی ہے یا دیگر اتحادیوں کو ایڈجسٹ کرتی ہے۔
پیپلز پارٹی کے ذرائع نے اردو نیوز کو بتایا ہے کہ ’چیئرمین سینیٹ کے لیے سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کا نام فائنل کیا جا چکا ہے۔ وہ ملتان سے اپنی جیتی ہوئی نشست خالی کر دیں گے۔ تاہم مقتدر حلقوں کی یہ بھی خواہش ہے کہ نگراں وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کو چیئرمین سینیٹ بنوایا جائے۔‘
دوسری جانب ن لیگ سپیکر قومی اسمبلی کے لیے ایک بار پھر ایاز صادق کے نام پر غور کر رہی ہے۔ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے لیے سینیٹر عرفان صدیقی کا نام زیرِغور ہے۔
پیپلز پارٹی فی الحال وفاقی کابینہ میں شامل نہیں ہو رہی تو ن لیگ کے رہنما وفاقی وزارتوں کے لیے قیادت کے فیصلوں کے منتظر ہیں۔ امید کی جا رہی ہے کہ ن لیگی رہنماؤں کو ان کی سابق دو ادوار میں دی جانے والی وزارتوں میں ہی کھپایا جائے گا۔
اس کے علاوہ نگراں کابینہ کے تین سے چار وزرا جن میں ڈاکٹر شمشاد اختر، فواد حسن فواد اور ڈاکٹر عمر سیف کو بھی نئی کابینہ میں شامل کیا جا سکتا ہے۔
ن لیگ سپیکر قومی اسمبلی کے لیے ایک بار پھر ایاز صادق کے نام پر غور کر رہی ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
پنجاب کی گورنرشپ کے لیے جہاں پیپلز پارٹی کے مخدوم احمد محمود اور ندیم افضل چن کے نام زیرِگردش ہیں وہیں موجودہ نگراں وزیراعلٰی محسن نقوی کا نام بھی سامنے آنے لگا ہے۔
پیپلز پارٹی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ’پنجاب کی گورنزشپ کے لیے مخدوم احمد محمود سب سے مضبوط امیدوار ہیں لیکن پیپلز پارٹی ایک متحرک شخص کو گورنر بنانا چاہتی ہے اور یہ واحد بات ہے جو مخدوم احمد محمود کے خلاف جاتی ہے۔ بصورت دیگر ن لیگ کو بھی ان کے نام پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ سابق گورنر پنجاب چوہدری غلام سرور بھی اپنے طور پر لابنگ کر رہے ہیں۔‘
ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے بعد تیسری بڑی اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم) ہے جو 17 جنرل نشستیں جیت کر آئی ہے، اس لیے اب کی بار ان کے مطالبات بھی زیادہ ہیں۔
توقع کے برعکس ایم کیو ایم کو گورنر کے علاوہ کسی آئینی عہدے میں دلچسپی نہیں ہے تاہم انہوں نے پانچ وزارتوں کا مطالبہ کیا ہے جب میں مواصلات، پورٹس اینڈ شپنگ، ہاؤسنگ، پیٹرولیم اور اوورسیز پاکستانیز شامل ہیں۔
ایم کیو ایم کا موقف ہے کہ وہ ایسی وزارتیں چاہتے ہیں جس سے وہ شہری علاقوں کی ترقی کے اپنے منصوبے پر عمل در آمد کروا سکیں۔ جبکہ مواصلات، پورٹس اینڈ شپنگ اور پٹرولیم ایسی وزارتیں جن کا ایک دوسرے سے رابطہ اور ایک دوسرے کی پالیسی سازی میں شامل ہونا ضروری ہے اس لیے یہ ایک ہی جماعت کے پاس ہونی چاہییں۔
ایم کیو ایم نے پانچ وزارتوں کا مطالبہ کیا ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
ایم کیو ایم ذرائع کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے مطالبات ن لیگ کے سامنے رکھ دیے ہیں اور اس پر دونوں جماعتوں کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔ ان میں مختلف تجاویز پر غور وخوض جاری ہے۔
ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’ایم کیو ایم نے ن لیگ سے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ ان کے معاملات کو پیپلز پارٹی سے سرے سے الگ رکھا جائے کیونکہ پیپلز پارٹی سندھ میں ایم کیو ایم کو جگہ دینے کے لیے تیار نہیں ہے۔‘
حکومت میں شامل چوتھی بڑی اتحادی جماعت ق لیگ ہے جس کی قومی اسمبلی میں اگرچہ تین ہی نشستیں ہیں لیکن پنجاب میں ان کے پاس 10 نشستیں ہیں جو حکومت سازی میں اہمیت کی حامل ہیں۔ اس لیے امید کی جا رہی ہے کہ وفاق میں ایک وزارت کے ساتھ ساتھ ان کو پنجاب میں ڈپٹی سپیکر کا عہدہ دیا جا سکتا ہے جبکہ ق لیگ کا مطالبہ پنجاب کی سپیکرشپ ہے۔
اسی طرح بلوچستان عوامی پارٹی کو بھی وفاق میں ایک وزارت دیے جانے کا امکان ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.