سمارٹ موبائیل کی بھی چھٹی، وہ نئی ڈیوائس جو مستقبل میں اسمارٹ فونز کی جگہ لے سکتی ہے

موجودہ عہد میں بیشتر افراد اسمارٹ فونز کے بغیر زندگی کا تصور بھی نہیں کر سکتے مگر اب ایک ڈیوائس اس کی جگہ لینے کے لیے تیار ہے۔

ریبٹ آر 1 نامی ڈیوائس آپ کی ہتھیلی میں سما سکتی ہے اور آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ٹیکنالوجی سے لیس ہے۔

اس ڈیوائس سے آپ اپنے سوالات کے جواب جان سکتے ہیں، مختلف ایپس لانچ کر سکتے ہیں یا ٹیکسی بھی طلب کر سکتے ہیں۔

مگر یہ کوئی اسمارٹ فون نہیں بلکہ کمپنی کے مطابق یہ ایسا پرسنل ڈیجیٹل اسسٹنٹ ہے جو اے آئی ٹیکنالوجی پر کام کرتا ہے۔

لاس ویگاس میں کنزیومر الیکٹرونکس شو کے موقع پر اس ڈیوائس کو متعارف کرایا گیا۔

ریبٹ اے آئی نامی کمپنی کے بانی Jesse Lyu کے خیال میں ہمارے فونز میں موجود لاتعداد ایپس اور فیچرز نے ان کی افادیت ختم کر دی ہے اور وہ آر 1 سے اسے بدلنے کے خواہشمند ہیں۔

کمپنی کے خیال میں یہ مستقبل میں اسمارٹ فونز کی جگہ لے سکتی ہے / فوٹو بشکریہ ریبٹ اے آئی
کمپنی کے خیال میں یہ مستقبل میں اسمارٹ فونز کی جگہ لے سکتی ہے / فوٹو بشکریہ ریبٹ اے آئی

Jesse Lyu کے مطابق وہ اپنی ڈیوائس کو اسمارٹ فون کا متبادل نہیں بنانا چاہتے، کم از کم فی الحال نہیں۔

مگر انہیں لگتا ہے کہ یہ مستقبل قریب میں ضرور اسمارٹ فونز کی جگہ لے سکتی ہے۔

دیکھنے میں یہ کسی گیم کنسول جیسی ڈیوائس ہے جس میں 2.88 انچ کا ٹچ اسکرین ڈسپلے موجود ہے۔

اس کے علاوہ تصاویر اور ویڈیوز لینے کے لیے ایک روٹیٹنگ کیمرا اور اسسٹنٹ سے چیٹ کے لیے ایک بٹن دیا گیا ہے۔

ڈیوائس کے اندر 2.3 گیگا ہرٹز کا پراسیسر، 4 جی بی ریم اور 128 جی بی اسٹوریج موجود ہے جبکہ اس کی بیٹری سنگل چارج پر پورا دن کام کرسکتی ہے۔

ڈیوائس کی خاص بات اس کا سافٹ وئیر یا آپریٹنگ سسٹم ہے۔

ریبٹ او ایس نامی سافٹ وئیر لارج ایکشن ماڈل پر مبنی اے آئی سسٹم ہے جس سے آر 1 کو تمام ایپس کے لیے ایک یونیورسل کنٹرولر کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

Jesse Lyu نے بتایا کہ اس ڈیوائس کو ہر طرح کی سروسز کو متحرک کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، اب چاہے وہ ایک ویب سائٹ ہو، ایک ایپ ہو یا کوئی بھی پلیٹ فارم ہو۔

بنیادی طور پر یہ گوگل اسسٹنٹ جیسا ہی ایک اسسٹنٹ ہے مگر اس کے آپریٹنگ سسٹم سے آپ کو میوزک کو کنٹرول کرنے، گاڑی طلب کرنے، گھر کا سامان خریدنے، میسجز بھیجنے سمیت بہت کچھ کرنے کی سہولت ایک ہی اسکرین پر ملتی ہے۔

اس ڈیوائس کو استعمال کرنے کے لیے ایپس اوپن کرنے یا لاگ ان ہونے کی ضرورت نہیں، بس اپنی خواہش بیان کریں اور ڈیوائس کو اپنا کام کرنے دیں۔

اس میں ایک ٹریننگ موڈ بھی ہے جسے آپ ڈیوائس کو مختلف کام کرنے کی تربیت دینے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔

اس ڈیوائس کی قیمت 199 ڈالرز رکھی گئی ہے اور یہ مارچ میں صارفین کو دستیاب ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.