پاکستان میں سولر پینل کی قیمت میں 50 فیصد تک کمی

پاکستان میں بجلی کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافے کے باعث نہ صرف شہریوں کا بجٹ متاثر ہوا ہے بلکہ ان کے لیے اپنی بنیادی ضروریات کو پورا کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔
ان حالات میں سولر پینلز ہی ایسا واحد متبادل ہیں جن سے حاصل ہونے والی قابلِ تجدید توانائی نہ صرف کم قیمت ہے بلکہ ان کے استعمال سے شہریوں کی مشکلات میں بھی نمایاں کمی آ سکتی ہے تاہم ڈالر کی قدر بڑھنے کے باعث حالیہ کچھ عرصے کے دوران سولر پینلز کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا جس کے باعث ان کی فروخت بھی کم ہو گئی۔
تین ماہ قبل آسمان سے باتیں کرتی سولر پینل کی قیمتوں میں اب نمایاں کمی آئی ہے اور مارکیٹ میں دستیاب سولر پینلز کی مختلف اقسام کی قیمتوں میں اوسطاً 50 فیصد تک کمی ہوئی ہے۔ مخلتف شہروں میں 600 واٹ سولر پینل پلیٹ کی قیمت 50 ہزار روپے سے کم ہو کر 30 ہزار روپے ہو گئی ہے جبکہ 150 واٹ کی سولر پینل پلیٹس جو 20 ہزار روپے تک دستیاب تھیں اب ان کی قیمت کم ہو کر 10 ہزار روپے تک ہو گئی ہے۔ قیمتوں میں اس کمی کے باعث دکاندار اور شہری دونوں مطمئن دکھائی دیتے ہیں۔
خیال رہے کہ موسم گرما کے دوران پاکستان میں سولر پینلز کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ ہوا تھا جس کی وجہ سے ان کی فروخت میں بھی نمایاں کمی آئی تھی۔
سولر پینل کی قیمت کم ہونے کی ایک سے زیادہ وجوہات
سولر پینل کے کاروبار سے منسلک افراد اور توانائی امور کے ماہرین قیمتوں میں کمی کو مقامی اور بین الاقوامی عوامل سے جوڑ رہے ہیں۔
ماہر توانائی امور ارشد ایچ عباسی نے اُردو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ڈالر کی قیمت میں کمی اور درآمدی مال کی دستیابی کے بعد سولر پینلز کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئی ہے۔‘
انہوں نےبتایا کہ ’پاکستان میں سولر پینل امپورٹ کیے جاتے ہیں جس کے باعث جب ڈالر 300 روپے سے اوپر گیا تو سولر پینل کی قیمتیں بھی بڑھیں اب جبکہ ڈالر 270 سے 280 روپے کے درمیان ہے تو سولر پینل کی قیمتیں بھی اُسی حساب سے کم ہوئی ہیں۔
موسم سرما میں بجلی کا کم استعمال بھی سولر پینل کی قیمتوں میں کمی کی وجہ 
ارشد ایچ عباسی کے مطابق موسم سرما کے دوران پاکستان میں بجلی کی کھپت میں نمایاں کمی آتی ہے۔ لوگ سردیوں کے مقابلے میں گرمیوں میں سولر پینل کی ضرورت زیادہ محسوس کرتے ہیں۔
ابھی مارکیٹ میں طلب اور رسد کے فرق سے بھی قیمتوں میں کمی آئی ہے۔
سستی اور قابل تجدید توانائی کے فروغ میں حکومتی پالیسیوں میں عدم تسلسل
ماہر توانائی ارشد ایچ عباسی نے اُردو نیوز کو بتایا کہ ’ملک میں سستی اور قابل تجدید توانائی کے فروغ میں حکومتی پالیسیاں عدم تسلسل کا شکار رہی ہیں۔ ماضی میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے سولر پینلز کے فروغ پر کام کیا جسے بعد میں آنے والی حکومتوں نے اُس طرح سے جاری نہیں رکھا۔‘
وفاقی حکومت کی جانب سے مالی سال 24-2023 کے بجٹ میں سولر پینلز پر عائد ٹیکس اور ڈیوٹی ختم کر دی گئی ہے (فوٹو: روئٹرز)
انہوں نے کہا کہ ’پاکستان میں موجودہ نگران سیٹ اَپ سے دوررَس پلاننگ اور پالیسیز مرتب کرنے کی توقع نہیں رکھی جا سکتی۔ دیکھنا ہو گا کہ آئندہ کی منتخب حکومت اس حوالے سے کیا کام کرتی ہے۔‘
ماہرین کے مطابق سولر پینلز کی مینوفیکچرنگ میں چینی اجارہ داری ختم کرنے کے لیے امریکہ اور یورپ میں گیگا واٹ کی سطح پر پی وی سیل اور ماڈیول پروڈکشن کی فیسیلٹیز کے منصوبے بنائے گئے تھے جو اب تاخیر کا شکار ہو چکے ہیں یا انہیں مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔
مغرب میں چونکہ سولر پینلز کی بڑے پیمانے پر خریداری متوقع تھی اس لیے ایک جانب چینی سرمایہ کاروں نے بڑے پیمانے پر سولر پینلز کا سٹاک جمع کرلیا تو دوسری جانب مغربی سرمایہ کاروں نے بڑے پیمانے پر سولر پینل خرید کر جمع کر رکھے ہیں۔ مذکورہ عوامل بھی سولر پینلز کی قیمتوں میں کمی کا باعث بنے ہیں۔
سولر پینل پرعائد ٹیکس ڈیوٹی میں خاتمہ 
وفاقی حکومت کی جانب سے مالی سال 24-2023 کے بجٹ میں سولر پینلز پر عائد ٹیکس اور ڈیوٹی ختم کر دی گئی ہے۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے فنانس بل کے مطابق بجٹ میں سولر پینل کی مینوفیکچرنگ کے خام مال پر کسٹمز ڈیوٹی، سولر پینل کی بیٹریز کی تیاری کے خام مال پر کسٹمز ڈیوٹی، سولر پینل کی مشینری کی درآمد اور سولر پینلز کے انورٹر کے خام مال پر بھی ڈیوٹی ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
ماہرین کے مطابق ان حکومتی اقدامات کے سبب بھی سولر پینلز کی قیمتوں میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔
حکومت ملک میں قابل تجدید توانائی کے فروغ کے لیے پُرعزم
وزارت توانائی (پاور ڈیویژن) کے اعلیٰ حکام نے اُردو نیوز کو بتایا کہ ’سولر پینل پر ڈیوٹی کا خاتمہ قابلِ تجدید توانائی کے فروغ کے حکومتی عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ ملک کی انرجی سکیورٹی قابل تجدید ذرائع سے جڑی ہے۔ وزارت توانائی شمسی توانائی کے ذرائع مارکیٹ میں عام کرنے کے لیے مختلف پالیسیز پر کام کر رہی ہے۔
وزارت توانائی حکام کا کہنا ہے کہ ’یہ تاثر غلط ہے کہ حکومت سولر پینلز کے فروغ میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا کر رہی ہے۔ بجلی کے شعبے کے مسائل جن میں گردشی قرضہ وغیرہ بھی شامل ہے، ان کے سدِباب کے لیے سولر پینلز کا استعمال مسائل پیدا کرنے کا سبب نہیں بن رہا۔‘
ماہرین سمجھتے ہیں کہ مناسب دیکھ بھال اور باقاعدگی سے صفائی کے ذریعے سولر پینلز کی کارکردگی بڑھائی جا سکتی ہے (فوٹو: اے ایف پی)
سولر پینل کی عمر کتنی ہوتی ہے؟
سولر پینل کے کاروبار سے منسلک افراد سمجھتے ہیں کہ ایک بار خریدا گیا سولر پینل سسٹم 25 سال یا اس سے زیادہ عرصے تک چل سکتا ہے تاہم، مختلف عوامل سولر پینلز کی پائیداری کو متاثر کر سکتے ہیں۔ بیرونی حالات اور دیکھ بھال کے طریقے سولر پینل کی عمر کو بڑھانے اور گھٹانے کا سبب بنتے آ رہے ہیں۔
سولر پینلز کی عمر کا انحصار مختلف عوامل پر ہوتا ہے جیسے کہ استعمال شدہ مواد، مینوفیکچرنگ کا عمل اور ماحولیاتی حالات۔ زیادہ تر سولر پینلز وارنٹی کے ساتھ آتے ہیں جن کے تحت ان کی کارکردگی کی کم از کم 25 سال تک کی ضمانت دی جاتی ہے۔
مناسب دیکھ بھال اور باقاعدگی سے صفائی سولر پینلز کی عمر بڑھانے میں مدد کر سکتی ہے۔ سولر پینلز کو برقرار رکھنے کا سب سے مؤثر طریقہ انہیں صاف اور دھول اور ملبے سے پاک رکھنا ہے۔
ماہرین کے مطابق سولر پینل کی صفائی کے لیے نرم برش یا کپڑے کا استعمال کرتے ہوئے گندگی صاف کی جاسکتی ہے جو پینل کی سطح پر جمع ہو سکتی ہے۔ مزید برآں، پینلز کا باقاعدگی سے معائنہ کرنے سے کسی بھی مسئلے کے بارے میں معلوم ہو سکتا ہے، جسے فوری طور پر حل کیا جا سکتا ہے۔ 
سولر پینلز کی دیکھ بھال کا ایک اور اہم پہلو درجۂ حرارت کی نگرانی کرنا ہے۔ انتہائی درجہ حرارت شمسی خلیوں کی کارکردگی کو متاثر کر سکتا ہے، زیادہ درجۂ حرارت ان کی پیداوار کو کم کر دیتا ہے۔ مناسب وینٹی لیشن اور شیڈنگ سولر پینلز کی لمبی عمر کو یقینی بنانے کے لیے درجۂ حرارت کو کنٹرول کرنے میں مدد کر سکتے ہیں۔
ماہرین سمجھتے ہیں کہ مناسب دیکھ بھال اور باقاعدگی سے صفائی کے ذریعے سولر پینلز کی کارکردگی بڑھائی جا سکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.