بجلی، گیس کے ہیٹر استعمال کرتے ہوئے کیا حفاظتی اقدامات کرنے چاہییں؟ موسم سرما میں کام آنے والے چند مشورے

پاکستان سمیت دنیا کے بیشتر ممالک اس وقت سردی کی لپیٹ میں ہیں۔ خشک سردی نے لوگوں کو ٹھٹھرنے پر مجبور کیا ہوا ہے تو کہیں برفباری میں لوگ خود کو گرم رکھنے کی جستجو میں لگے ہیں۔

سردی کے اثرات سے محفوظ رہنے کے لیے ہمارے پاس آپ کو دینے کے لیے چند تجاویز ہیں۔

کیا سردیوں میں زیادہ انفیکشن ہوتے ہیں؟

مشیل رابرٹس، بی بی سی نیوز ہیلتھ ایڈیٹر لکھتی ہیں کہ سال کے اس وقت میں نزلہ زکام اور گلے کی خراش کا سبب بننے والے فلو اور اس نوعیت کی دیگر بیماریاں زیادہ عام ہیں۔

موسم سرما میں قے کی وجہ بننے والے جراثیم نورو وائرس کے کیسوں میں اضافہ ہوا ہے، اور رواں موسم سرما تو کووڈ بھی موجود ہے۔

جب باہر سردی ہوتی ہے تو ہم گھر کے اندر زیادہ وقت گزارتے ہیں، جہاں انفیکشن کا پھیلنا زیادہ آسان ہو سکتا ہے۔

مثال کے طور پر ایک بند جگہ پر جہاں کھڑکیاں، دروازے بند ہوں اور ہوا کی آمد و رفت زیادہ نہ ہو وہاں کھانسی اور چھینک کے ذریعے پھیلنے والا انفیکشن دوسرے شخص کو آسانی سے متاثر کر سکتا ہے۔

تاہم اچھی حفظان صحت پر عمل کرنا، کھانسی اور چھینک کے لیے ٹشو یا کپڑے کا استعمال کرنا، بار بار ہاتھ دھونا، اس کی روک تھام میں مدد کر سکتا ہے۔

بجلی اور گیس کے ہیٹر کا استعمال کرتے ہوئے کیا حفاظتی اقدامات کرنے چاہییں؟

علامتی تصویر

بی بی سی نیوز کی بزنس رپورٹر بیتھ ٹمنز لکھتی ہیں:

بہت سے لوگ پورٹیبل ہیٹر استعمال کر رہے ہیں لیکن اگر احتیاط سے انھیں استعمال نہ کیا جائے تو وہ آگ کا سنگین خطرہ پیدا کر سکتے ہیں۔

خیراتی ادارے الیکٹریکل سیفٹی فرسٹ کے فائر فائٹرز اور سیفٹی منیجرز کا کہنا ہے کہ آپ کو اپنا ہیٹر ایک ہموار سطح پر رکھنا چاہیے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ یہ کسی کے اوپر نہ گرے۔

ہیٹر کو کسی بھی آتش گیر مادے یا چیز سے کم از کم 3 فٹ دور ہونا چاہیے۔ کمرے میں لٹکے پردوں، کپڑوں اور کمبل وغیرہ کو ہیٹر سے دور ہونا چاہیے۔ اپنے دھلے کپڑے خشک کرنے کے لیے ہیٹر کا استعمال نہیں کرنا چاہیے اور نہ ہی اسے طویل عرصے تک یا رات بھر کے لیے جلا کر چھوڑ دینا چاہیے۔

ماہرین نے ہیٹر کو ایکسٹینشن لیڈز میں لگا کر چلانے کے حوالے سے بھی متنبہ کیا ہے کیونکہ اس سے آگ لگ سکتی ہے۔

اسی طرح گیس ہیٹر کا استعمال کاربن مونو آکسائیڈ جیسی زہریلی گیس کے اخراج کا خطرہ بڑھاتا ہے اس لیے اسے بھی زیادہ دیر تک استعمال نہیں کرنا چاہیے۔

بچوں کو کیسے گرم رکھ سکتے ہیں؟

علامتی تصویر

سرد موسم میں نوزائیدہ بچوں اور پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کو زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔

برطانیہ کی وزارت صحت کا مشورہ ہے کہ بچوں کو گرم رکھنے کے لیے کپڑوں کی کئی پرتیں پہنانی چاہییں جبکہ رات کے اوقات میں انھیں ایک کے بجائے زیادہ ہلکے پھلکے کمبل اوڑھانے چاہییں۔ اہم بات یہ ہے کہ بچوں کو رات میں انتہائی گرم کمروں کی ضرورت نہیں ہوتی ہے، 16 سے 20 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان کمرے کا درجہ حرارت مثالی ہے۔

اوور ہیٹنگ نوزائیدہ بچوں کی اچانک موت کے سنڈروم کی ممکنہ وجوہات میں سے ایک ہے۔

این سی ٹی چیریٹی کا کہنا ہے کہ سردیوں کے دوران سر اور ہاتھوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ باہر جاتے وقت اپنے بچے کے سر کو گرم رکھنے کے انتظامات کریں یعنی ٹوپی پہنائیں جبکہ ہاتھوں میں دستانوں کا استعمال کریں۔

گاڑی میں اگر ضروری ہو تو بچوں کے اوپر ایک اضافی کمبل یا اوڑھنے کی چیز ڈال سکتے ہیں۔

سردی میں پالتو جانوروں کو کیسے محفوظ رکھیں؟

علامتی تصویر

انسانوں کی طرح جانوروں کو بھی ہائپوتھرمیا کا خطرہ ہو سکتا ہے اگر وہ بہت زیادہ ٹھنڈے ہو جائیں تو۔

ویٹرنری چیریٹی پی ڈی ایس اے سردیوں کے مہینوں میں کتوں اور بلیوں کو ان کے بستروں کے لیے اضافی کمبل دینے کا مشورہ دیتا ہے۔

زمین سے اونچے بستر بوڑھے کتوں کو ٹھنڈ سے دور رکھ سکتے ہیں جبکہ بلیوں کو بھی اونچی جگہیں پسند آ سکتی ہیں۔

خیراتی ادارہ پالتو جانوروں کے لیے اضافی کھیلنے کا وقت بھی تجویز کرتا ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ اگر وہ باہر کم وقت گزار رہے ہیں تو اس کے باوجود وہ فعال رہیں، اس کام میں کھلونے مدد کر سکتے ہیں۔

بلیوں کو رات بھر اندر رکھنے پر غور کریں اور ان کے پیشاب کے لیے اندر ہی انتظام کریں۔

درجہ حرارت میں اچانک کمی پالتو جانوروں جیسے خرگوش پر بھی بڑا اثر ڈال سکتی ہے۔ انھیں سردی سے بچنے کے لیے اضافی بستر دیا جانا چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.