بظاہر معمولی نظر آنے والی پیٹرولیم جیلیدنگ کر دینے والے فائدے

پیٹرولیم جیلی کا استعمال دنیا بھر میں برسوں سے جِلد کی نمی بڑھانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔

مگر بظاہر یہ عام سی نظر آنے والی چیز اتنی کارآمد ہوتی ہے کہ آپ نے کبھی تصور بھی نہیں کیا ہوگا۔

یہ بنیادی طور پر منرلز آئلز اور موم کے امتزاج سے بنتی ہے۔

اسے 1859 میں دریافت کیا گیا تھا اور جب سے اس میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی۔

اس کے چند فوائد درج ذیل ہیں۔

زخم بھرنے میں مدد ملتی ہے
پیٹرولیم جیلی ڈیڑھ سو برسوں سے دنیا بھر میں فروخت کی جا رہی ہے اور جب سے ہی جِلدی امراض کے ماہرین کی فیورٹ ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ جِلد میں پانی کو ایک جگہ مرکوز رکھتی ہے۔

یہ زخموں کے لیے اچھا ہوتا ہے کیونکہ انہیں بھرنے کے لیے نمی کی ضرورت ہوتی ہے اور زخم دوگنا تیز ی سے بھرتا ہے۔

پیٹرولیم جیلی سے نئے زخم کی سرخی بھی کم ہوتی ہے اور انفیکشن کا خطرہ کم ہوتا ہے، جبکہ اسے لگانے سے جلن بھی نہیں ہوتی۔

البتہ اگر سورج کی تپش سے جِلد جل گئی ہے تو پھر اسے استعمال کرنے سے گریز کریں۔

چنبل یا خارش کی شدت میں کمی
اگر جِلد بہت زیادہ خشک ہو جائے تو وہ پھٹ جاتی ہے اور بیکٹریا کی افزائش ہونے لگتی ہے۔

پیٹرولیم جیلی سے جِلد کو فائدہ ہوتا ہے اور ادویات زیادہ بہتر کام کرنے لگتی ہے۔

اس کے استعمال سے ورم میں کمی آتی ہے جبکہ جِلد کی نمی برقرار رہتی ہے جس سے خارش کم ہو جاتی ہے۔

جوؤں کا خاتمہ
جی ہاں واقعی پیٹرولیم جیلی سے سر کی جوؤں کا خاتمہ بھی ہوتا ہے۔

تحقیقی رپورٹس سے ثابت ہوا ہے کہ پیٹرولیم جیلی جوؤں کو مارتی ہے مگر ان کے انڈوں پر کوئی اثرات مرتب نہیں ہوتے۔

آبلوں کی روک تھام
اگر بھاگنے یا بہت زیادہ چلنے کا ارادہ ہے تو پیروں اور ایڑیوں پر پیٹرولیم جیلی لگالیں۔

ایسا کرنے سے رگڑ سے بننے والے آبلوں سے بچنے میں مدد ملے گی۔

اگر آبلے بن گئے ہیں تو پیٹرولیم جیلی کے استعمال سے ان سے نجات میں مدد ملے گی۔

ڈائیپر سے ہونے والے دانوں یا ریش کا علاج
پیٹرولیم جیلی سے جِلد کو باہری اشیا سے تحفظ ملتا ہے۔

بچوں کو اگر ڈائیپر کے استعمال سے ریش کے مسئلے کا سامنا ہوتا ہے تو پیٹرولیم جیلی کا استعمال کریں۔

ماہرین کے مطابق پیٹرولیم جیلی اس مسئلے کی روک تھام کے لیے ایک سستا اور مؤثر طریقہ ہے۔

جِلد کو سرد موسم کے اثرات سے تحفظ
پیٹرولیم جیلی سے جِلد کو سرد موسم اور ہوا سے مضر اثرات سے تحفظ فراہم کیا جا سکتا ہے۔

سرد موسم میں باہر نکلنے سے قبل اسے جِلد پر لگالیں، اگر ناک بہہ رہی ہے تو ناک کے نیچے معمولی مقدار میں پیٹرولیم جیلی کو لگالیں۔

آنکھوں کی نمی بحال کرے
ہماری آنکھوں کے اردگرد کی جِلد بہت پتلی ہوتی ہے اور اسی وجہ سے جلد خشک بھی ہو جاتی ہے۔

پیٹرولیم جیلی کے استعمال سے آنکھوں کی نمی برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے، لیکن آنکھوں کے اندر لگانے سے گریز کریں۔

ناخنوں کے لیے بھی مفید
پیٹرولیم جیلی ناخنوں کے لیے بھی مفید ہے۔

اگر ناخن کمزور یا بھربھرے ہوگئے ہیں تو ان میں پیٹرولیم جیلی کو بھرنے سے اس مسئلے سے بچنے میں مدد مل سکتی ہے۔

بالوں کی چمک بحال کرے
سورج کی روشنی اور ہوا سمیت ناقص معیار کے پانی سے بال خشک اور بے جان ہو جاتے ہیں۔

پیٹرولیم جیلی کے استعمال سے بالوں کی چمک بحال کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

اس مقصد کے لیے پیٹرولیم جیلی کی معمولی مقدار کو بالوں کے سرے میں لگالیں۔

پرفیوم کی خوشبو دیر تک برقرار رکھیں
پیٹرولیم جیلی کی کچھ مقدار کلائی، گردن یا نبض پر لگا کر پرفیوم کا استعمال کریں۔

پیٹرولیم جیلی کی چکنائی مہک کو زیادہ وقت تک برقرار رکھنے میں مدد فراہم کرے گی۔

نوٹ: یہ مضمون طبی جریدوں میں شائع تفصیلات پر مبنی ہے، قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.