ڈی ایچ اے لاہور 6 افراد کی موت، سنگین دفعات کے باوجود ملزم کو سخت سزا نہیں دی جاسکے گی؟

پاکستان کے شہر لاہور کے علاقے ڈی ایچ اے میں حال ہی میں ایک گاڑی کی ٹکر سے ایک ہی خاندان کے چھ افراد کے ہلاک ہونے کے واقعے کے مقدمے میں پولیس نے ملزم کے خلاف قتل اور انسدادِ دہشت گردی کی دفعات کا اضافہ کر دیا ہے۔

پولیس کے مطابق ملزم کے خلاف یہ دونوں دفعات مرنے والوں کے لواحقین کی درخواست پر مقدمے میں شامل کی گئی ہیں۔ تاہم ملزم کے وکیل نے پولیس کے اس اقدام کے خلاف لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا ہے۔

یاد رہے کہ لاہور کے علاقے ڈی ایچ اے فیز 7 میں گذشتہ سنیچر کو ایک تیز رفتار گاڑی نے دوسری گاڑی کو ٹکر ماری، جس میں سوار ایک ہی خاندان کے چھ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ ابتدا میں پولیس کا کہنا تھا کہ ٹکر مارنے والی گاڑی کو چلانے والا کم عمر ڈرائیور تھا جو گاڑی چلانے یا لائسنس رکھنے کا اہل نہیں تھا۔

اس وقت پولیس نے اس واقعے کو ٹریفک حادثہ قرار دیتے ہوئے ایف آئی آر درج کی تھی، جس میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 279 اور 322 لگائی گئی تھیں۔ یہ دفعات ٹریفک حادثے کی صورت میں دیت کے حوالے سے ہیں۔ اس میں ملزم کے باآسانی رہا ہونے کی گنجائش موجود ہے۔

خیال رہے کہ اس مقدمے میں اس وقت پولیس نے پی پی سی کی دفعہ 320 نہیں شامل کی تھی۔ دفعہ 320 کے تحت ’لاپرواہی سے گاڑی چلاتے ہوئے نقصان کرنے کی صورت میں ملزم کو دیت کے ساتھ ساتھ دس سال تک سزا بھی ہو سکتی ہے۔‘

اب نئی دفعات کیوں شامل کی گئی ہیں؟

اس واقعے کا مقدمہ تھانہ ڈیفنس سی سے کاہنہ منتقل کر دیا گیا ہے۔ لاہور پولیس کے مطابق مقدمے میں قتل اور انسدادِ دہشت گردی کی دفعات مدعی مقدمہ کی درخواست پر شامل کی گئی ہیں جنھوں نے پولیس کو نئی معلومات فراہم کی ہیں۔

ہلاک ہونے والے چھ افراد میں سے ایک کے والد رفاقت علی مدعی مقدمہ ہیں۔ لاہور پولیس کے مطابق انھوں نے نئی معلومات میں پولیس کو بتایا ہے کہ واقعے سے قبل ملزم کی ان کے بیٹے سے تلخ کلامی ہوئی تھی۔

مدعی نے پولیس کو بتایا ہے کہ ’میرے بیٹے نے اور میں نے گاڑیاں روک کر ملزم کو منع کیا تھا کہ وہ ہماری گاڑیوں کا پیچھا نہ کرے کیونکہ وہ کافی فاصلہ سے اس گاڑی کا تعاقب کر رہا تھا جس میں خواتین بھی سوار تھیں۔’

مدعی نے پولیس کو بتایا کہ منع کرنے پر ملزم نے ان کو دھمکایا اور ان کا تعاقب جاری رکھا۔ مدعی کے مطابق اس کے بعد ہی ملزم نے تیز رفتاری سے اپنی گاڑی کی ٹکر اس گاڑی کو ماری جس میں ان کا بیٹا اور خاندان کے پانچ دیگر افراد سوار تھے۔

مدعی مقدمہ نے پولیس کو یہ بھی بتایا کہ ملزم اکیلا نہیں تھا اس کے ساتھ دو افراد گاڑی میں اور بھی سوار تھے؟

کار

کیا ملزم کو کم عمر ملزم تصور کیا جا رہا ہے؟

پولیس کی طرف سے نئی دفعات مقدمے میں شامل کرنے کے خلاف ملزم نے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ ان کے وکیل کی طرف سے دائر کی گئی درخواست میں کہا گیا ہے کہ ان کی عمر 17 سال کے لگ بھگ ہے اور اس لیے وہ قانونی طور پر جووینائل یا کم عمر ملزم تصور ہونے چاہئیں۔

لاہور ہائی کورٹ میں دی گئی درخواست میں ملزم کے وکیل نے موقف اپنایا ہے کہ ‘یہ واقعہ ایک ٹریفک حادثہ تھا جو پولیس اپنی پہلی ایف آئی آر میں کہہ چکی ہے اور ٹریفک حادثے کے نتیجے میں چھ لوگوں کی اموات ہوئی۔’

تاہم ان کا کہنا ہے کہ پنجاب کے نگران وزیراعلی محسن نقوی کے حکم پر پولیس نے ایف آئی آر میں قتل اور انسدادِ دہشت گردی کی دفعات شامل کی ہیں۔ ‘پولیس کے اس اقدام کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دیا جائے اور ملزم کو اس کے تمام آئینی حقوق فراہم کیے جائیں۔’

انھوں نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ ان حقوق میں منصفانہ ٹرائل کا بنیادی حق بھی شامل ہے۔ ‘جووینائل ہونے کے ناطے ملزم کو جووینائل عدالت میں پیش کیا جانا چاہیے اور اسی جیل میں رکھا جانا چاہیے تاہم ایسا نہیں کیا گیا جو ملزم کے حقوق کی خلاف ورزی ہے۔‘

عدالت نے ان کی درخواست پر پولیس سے جواب طلب کیا ہے۔ خیال رہے کہ ملزم 14 روزہ جسمانی ریمانڈ پر ڈسٹرکٹ جیل لاہور میں قید ہے۔

تاہم پولیس کے مطابق ملزم کی حقیقی عمر کے حوالے سے شکوک و شبہات موجود ہیں، جس وجہ سے پولیس ان کی عمر کا تعین کرنے کے لیے ٹیسٹ کروانے کا ارادہ رکھتی ہے۔

کم عمر بچے ڈرائیونگ کیوں کرتے ہیں؟

پاکستان یا لاہور میں یہ پہلا واقعہ نہیں ہے جس میں کوئی کم عمر ڈرائیور گاڑی چلاتے ہوئے حادثے کا سبب بنا ہوا۔

لاہور کے چیف ٹریفک آفیسر کیپٹن ریٹائرڈ مستنصر فیروز نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ کم عمر ڈرائیورز لاہور پولیس کے لیے ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ انھوں نے بتایا کہ رواں برس اب تک پولیس 20 ہزار سے زیادہ کم عمر ڈرائیورز کے چالان کر چکی ہے۔

’ان میں زیادہ تر کاریں اور موٹر سائیکلیں وغیرہ شامل ہیں اور اس نوعیت کے جرائم زیادہ تر شہر کے پوش علاقوں سے سامنے آتے ہیں۔‘

انھوں نے بتایا کہ زیادہ تر واقعات میں یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ کم عمر ڈرائیورز وہ ہوتے ہیں جو شوقیہ گاڑی چلا رہے ہوتے ہیں۔

’یہ ممکن نہیں کہ سکول آنے جانے والے بچوں کے لیے پرائیویٹ یا پبلک ٹرانسپورٹ تک رسائی نہ ہو۔ یہ زیادہ تر وہ بچے ہوتے ہیں جو شوق سے ڈرائیونگ کر رہے ہوتے ہیں۔ ان سے جب پوچھا جاتا ہے تو اس میں کوئی مجبوری کا عنصر بظاہر نہیں ہوتا۔‘

سی ٹی او لاہور مستنصر فیروز نے بتایا کہ ٹریفک پولیس اس حوالے کم عمر ڈرائیورز کی روک تھام کے حوالے سے آگاہی مہمات چلاتی رہتی ہے جو اس نوعیت کے جرائم کو روکنے کا ایک طریقہ ہے۔

انھوں نے بتایا کہ لاہور میں 70 لاکھ سے زیادہ موٹر سائیکلیں اور گاڑیاں ہیں جبکہ دوسری طرف ان کو ریگولیٹ کرنے کے لیے ٹریفک پولیس کی نفری تین ہزار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ کم عمر اور بغیر لائسنسن کے ڈرائیونگ کرنے والوں کے خلاف سختی سے قانون کے نفاذ کے لیے مہمات چلا رہے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ لاہور کے جس علاقے میں یہ حادثہ پیش آیا وہ زیادہ گنجان آباد نہیں ہے اس لیے وہاں پولیس کی موجودگی بھی کم ہے۔ تاہم اس حادثے کے بعد پولیس کی اس علاقوں میں موجودگی کو بڑھانے کے لیے بھی لائحہ عمل تیار کر لیا گیا ہے۔

گاڑی

کیا کم عمر ملزم کے خلاف قتل کا مقدمہ چل سکتا ہے، سزا ہو سکتی ہے؟

وکیل اور قانونی ماہر اسد جمال نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس صورتحال میں بچے کی عمر کو ثابت کرنے کے لیے ان کا سکول کا سرٹیفیکیٹ اور برتھ سرٹیفیکیٹ وغیرہ عدالت میں جمع کروا دیا جاتا ہے جس سے ان کی عمر کا تعین ہو جاتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ میڈیکل ٹیسٹ وغیرہ اس صورت میں کیا جاتا ہے جب ملزم کی عمر کو ثابت کرنے کے لیے کوئی بھی دستاویز موجود نہ ہو۔

’اس کے ایک جووینائل ہونے کے ناتے ملزم کو جووینائل عدالت میں پیش کرنا اور جووینائل جیل میں رکھا جاتا ہے۔’

وکیل اسد جمال کا کہنا ہے کہ یوونائل کے خلاف قتل اور انسدادِ دہشت گردی کے تحت عدالت میں مقدمہ چلایا جا سکتا ہے تاہم جووینائل جسٹس سسٹم کے تحت اس کو سزائے موت نہیں دی جا سکتی۔’

وہ کہتے ہیں کہ اس واقعے کے میڈیا میں رپورٹ ہونے والے اور ظاہری حالات و واقعات سے ایسا نظر آتا ہے کہ اس پر انسدادِ دہشت گردی کی دفعات کا اطلاق نہیں بنتا۔ ’اور یہ ثابت کرنا بھی مشکل ہو گا کہ ملزم نے قتل کرنے کی نیت سے گاڑی کو ٹکر ماری۔’

اسد جمال کہتے ہیں کہ اگر ایک جووینائل شخص قتل میں بھی ملوث ہو تو پولیس کی طرف سے اس کی ویڈیو جاری کرنا اس کے حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.