ن لیگی منڈیروں پر فصلی بٹیروں کے ڈیرے، اصلی شیروں کو ڈھیر کرنے کی تیاریاں: ابو مرشد

مینار پاکستان پر نواز شریف کے تاریخی استقبالیہ اجتماع نے ماضی کے تمام ریکارڈ توڑ دئیے ہیں اور ن لیگ ایک بار ملک کی سب سے بڑی اور مقبول ترین جماعت نظر آنے لگی ہے اقتدار کا ھُما لیگی قیادت کے سر پر بیٹھا دور سے بھی دکھائی دیتا ہے جس پر ابھی تک سوائے چند سیاسی رقیبوں کے کسی کو کوئی اعتراض نہیں تمام اسٹیک ہولڈر پوری دلجمعی سے ایک پیج پر نظر آرہے ہیں ۔

ن لیگ کے اس بھرپور پاور شو کے پیچھے اصل ہاتھ قیادت اور مخلص کارکنوں کی شبانہ روز کاوشوں کا ہےجنہوں نے ووٹروں سپورٹروں اور ناراض کارکنوں کو منانے میں دن رات ایک کردیا گھر گھر مہم چلائی، دور دراز علاقوں میں گلیوں محلوں میں لوگوں کو اکٹھا کیا پارٹی کنونشن اور اکٹھ منعقد کروائے ان اجتماعات پر لوگوں کو لانے لے جانے ان کے قیام و طعام پر اپنے پلے سے خطیر سرمایہ خرچ کیا ان لوگوں کی ابھی مہینہ بھر کی تھکاوٹیں بھی نہیں اتریں زیادہ تر گھروں میں آرام کر رہے ہیں مگر ان کے ثمرات پر شب خون مارنے کے لئیے تازہ دم فصلی بٹیروں اور کاروائی بازوں کے جھنڈ کے جھنڈ ماڈل ٹاؤن، جاتی عمرہ سمیت ہر اس جگہ کا رخ کر چکے ہیں جہاں پارٹی عہدیداران اور قیادت کا آنا جانا ہے گاڑی کی ڈکی میں دس کلو پھولو کی پتیاں درجن بھر ہار پانچ کلو مٹھائی کی ٹوکری اور ڈیش بورڈ پر لسٹوں، کارگزاریوں کی جعلی فائیل اور تصویری البم رکھے ڈائریوں اور موبائلوں سے لیس ڈرائیور سمیت چار پانچ پرسنل اسسٹنٹوں کے ساتھ موقع کی تاک میں گشت کرتے پائے جاتے ہیں جو موقع ملتے ہی گاڑی کو روک کر نعرے بازی کرتے ہوئے پھولوں کی پتیاں نچھاور کرنے لگتے ہیں رش ڈالنے کے لئیے مٹھائی کی تقسیم اور اصرار کرکے قیادت کے گلے میں ہار پہناتے ہیں ملاقات کی التجاء کرتے ہیں اس دوران درست اینگل پر موجود پرسنل اسسٹنٹ یا ڈرائیور وغیرہ تصویریں بنالیتے ہیں جو ان کی البم کو اور بھاری بناتی رہتی ہیں اور شرف باریابی ملتے ہی فوٹو البم اور جعلی کارگزاریوں پر مبنی فائیل کے ساتھ قیادت کے روبرو پیشہ ور داستان گو کی طرح قصہ گوئی اور خوشامد شروع کر دیتے ہیں

پنجاب کے ایک دور افتادہ علاقے سے مینار پاکستان آئے ایک سرگرم لیگی کارکن کی زبانی اسی موضوع پر انتہائی دلچسپ اور حسب حال قصہ سننے قصہ سننے کو ملا کہ لاہور میں مستقل مقیم ان کے علاقے کے ایک پارٹی رہنماء متعدد جماعتوں سے مراسم رکھے ہوئے ہیں اور اپنے آبائی علاقے سے پارٹی ٹکٹ کے امیدوار ہیں، یہ اپنے مالی مفادات پر نظر رکھنے کے لئیے چار چھ ماہ میں کبھی کبھار ہی علاقے کے دورے پر آتے تھے آج کل باقاعدگی سے ہر ہفتے اپنے آبائی علاقے تشریف لارہے ہیں، ان صاحب نے نوازشریف کی استقبالیہ مہم میں خود تو زبانی کلامی کے علاوہ کوئی خاص عملی کارگذاری تو نہیں دکھائی مگر دیگر مقامی قیادت کی جانب سے منعقدہ ہر اجتماع میں باقاعدگی سے شریک ہوکر اسٹیج پر دلہا ہونے کی باقاعدہ ایکٹنگ کرتے ہوئے اپنے اسسٹنٹوں سے تصویریں کھنچوا کر فوری اگلے اجتماع پر بمطابق مخبر موزوں اوقات پر پہنچتے رہے، قافلوں کی روانگی سے دو روز قبل ہی سو کے قریب دیگیں ان کے ڈیرے پر سجا دی گئیں ساتھی ہی اتنی ہی کرسیاں اور چند تنبو قناتیں بھی، اجتماع سے ایک روز قبل عصر کے قریب تمام سامان ترتیب سے لگایا گیا تو لوگوں کو حیرت ہوئی کہ سو لوگوں کے لئیے سو دیگیں؟ تو بتایا گیا کہ سارے لوگ کرسیوں پر تھوڑی بیٹھیں گے کئی زمین پر اور کئی اطراف میں کھڑے ہوکر کھائیں گے پوچھنے والا بھی ستم ظریف تھا بولا حضور دیگیں پھر بھی بہت زیادہ ہیں تو جواب ملا بیوقوف بہت بڑا اجتماع ہے لمبا سفر ہے بہت سارے لوگ جارہے ہیں دیگیں صرف اپنے لئیے نہیں راستے میں اور پھر جلسہ گاہ میں بھی بانٹنی ہیں۔

اگلے روز ان تنبو قناتوں میں لگی سو کرسیوں پر بمشکل پینتیس چالیس کے قریب لوگ موجود تھے جن کی اکثریت ان صاحب کے اہل خانہ مصاحبین ذاتی ملازموں اور کاموں پر مشتمل تھی بمشکل دس کے قریب دیگیں پکائی گئیں جبکہ چولہوں پر تیس دیگیں دکھائی دے رہی تھیں تین نائی ان سو دیگوں کی پکوائی پر مامور تھے دیگوں کے گرد ذاتی ملازمین کا کڑا حفاظتی حصار لوگوں کو دیگوں سے دور رکھنے پر مامور تھا۔بمشکل دو تین دیگیں تقسیم ہوئی ہوں گی پانچ ڈیرے کے اندر باقی ڈبوں میں پیک کرکے بڑے شاپروں میں دس کے قریب گاڑیوں میں رکھوادی گئیں ان تمام مناظر کو بڑھا چڑھا کر تصویری اور ویڈیو ثبوت بنائے گئے شہر سے باہر نکلتے ہی بشمول ان کے محض تین گاڑیاں قافلے میں باقی رہ گئی تھیں جبکہ باقی راست میں ہی اپنی اپنی “منزل مقصود” پر پہنچ چکی تھیں۔ راستے میں جہاں کہیں بھی کسی قافلے کو پڑاؤ ڈالے دیکھا ان صاحب نے پورے طمطراق سے اس پڑاؤ میں شامل ہوکر بیٹھے، کھڑے، کھانا کھاتے پوز بنا بنا کر غیر محسوس انداز میں خوب تصویریں بنوائیں محض اسی پر اکتفاء نہیں کیا لاہور شہر کے داخلی راستوں پر جگہ جگہ ناکہ لگا کر موقع ملتے ہی آنے والے قافلوں کے آگے گاڑیاں لگا کر خوب ویڈیوز بنائیں اور سوشل میڈیا پر لائیو بھی چلائیں اور جہاں کہیں قافلے پھنسے تو قیادت کو تلاش کرکے ان کی گاڑیوں کے سامنے نعرے لگاتے ڈبے بانٹتے ٹریفک کو مزید الجھاتے اور قائدین کو بھی لنگر کی آفریں کرتے رہے۔ یہ ساری داستان لمحہ با لمحہ آنکھوں دیکھا حال نہیں محض حاصل معلومات کو ایک ترتیب اور تمثیلی رنگ دے کر مافی الضمیر آسان فہم میں سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے، بہت سے کاروائی باز ان میں سے اکثر عوامل کے مرتکب ہوئے ہیں

ایسے لوگ ہر جماعت کے لئیے زہر قاتل ہوا کرتے ہیں جو اصل سرگرم کارکنوں کی شدید حق تلفی کرتے ہوئے دوسروں کی کارگذاری قربانیوں اور محنت کے تمام ثمرات خود لے اڑتے ہیں جبکہ اصل کارکن بہت پیچھے رہ جاتا ہے اسے جماعت میں وہ وہ عزت مقام اور عہدہ نہیں ملتا جس کا وہ مستحق ہوتا ہے جو پارٹی میں بد دلی پھیلنے جوش و خروش میں خاتمے کا باعث بنتا ہے اصلی شیروں کے حوصلے پست ہو جاتے ہیں۔

یہ معاملہ کارکنان اکثر پارٹی ہائی کمان کے سامنے اٹھاتے رہتے ہیں اس بار بھی اٹھایا گیا اور اعلیٰ قیادت کی جانب سے برملا اس کا اعتراف کرتے ہوئے ذمہ داران کو ہدایات دی گئیں کہ کارگزاری کے معیار سے اچھے، متوسط اور غیر فعال کارکنان اور عہدیداران کی تخصیص کی جائے مگر بدقسمتی سے ان پر عملدرآمد بالکل نظر نہیں آیا البتہ کاروائی باز فصلی بٹیرے پارٹی آماجگاہوں میں رونقیں لگائے اصلی شیروں کے راستے روکے ہوئے ہیں جبکہ اصلی شیر ان محفلوں سے کہیں دور کونوں کھدروں میں دلبرداشتہ ڈھیر ہوتے نظر آرہے ہیں۔ دعاء ہے کہ میرا اندازہ غلط ہو مگر فی الحال تو یہی صورت احوال ہے جس کا برقرار رہنا بدقسمتی ہوگی نہ صرف اس جماعت کی بلکہ قومی سیاست اور نظام کی بھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

ن لیگی منڈیروں پر فصلی بٹیروں کے ڈیرے، اصلی شیروں کو ڈھیر کرنے کی تیاریاں: ابو مرشد” ایک تبصرہ

  1. بہت زبردست حقیقت کی حقیقی تصویر کشی کی آپ نے بالکل یہی کام ہمارے ہاں منور کھیترانی کر رہا ہے یہی طریقہ کار ہے اس کا قیادت کو ایسے لوگوں کو قریب نہیں انے دینا چاہیے یہ لوگ اصل ورکروں کا حق مارتے ہیں اور دھوکہ بازی سے اگے آ کر ظلم کرتے ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.