شوہر بیوی کا سرپرست نہیں ہو سکتا، مسلمان لڑکی سے متعلق بھارتی سپریم کورٹ کا نرالا فیصلہ

بھارتی سپریم کورٹ کے متعصب ججز نے ہندو لڑکی کے مسلمان نوجوان سے شادی کرنے کی معروف ’’ہادیہ میرج کیس‘‘ میں نرالی منطق ریمارکس کی صورت میں ظاہر کر دی۔ چیف جسٹس دیپک مشرا کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے گزشتہ روز سماعت کے دوران قرار دیا کہ بیوی ایک خود مختار فرد ہوتی ہے شوہر اس کا سرپرست نہیں ہو سکتا۔ عدالت نے کیرالہ سے تعلق رکھنے والی میڈیکل کی طالبہ اخیلا جس نے اپنے مسلمان کلاس فیلو شفیع جہاں کے ساتھ کورٹ میرج کر لی تھی کوکیرالہ لیجا کر اس کی تعلیم مکمل کرنے کا حکم دیا اور ریاستی حکومت کو ہدایت کی کہ وہ ہادیہ کی تعلیم مکمل کرانے کے حوالے سے انتظامات کرے۔ عدالت میں ہادیہ نے کہا کہ وہ اپنے دین اسلام پر عمل پیرا ہونا اور اپنے شوہر شفیع جہاں کے ساتھ رہنے کی آزادی چاہتی ہے تاہم بدنیت بھارتی ججوں نے عاقل و بالغ اس لڑکی کے خیالات پر توجہ نہ دی اور سیدھے سادھے مقدمے کو بھارتی چیف جسٹس نے پیچیدہ ترین کیس قرار دیا۔ واضح رہے کہ ہادیہ سے شفیع کی شادی پر کیرالہ سمیت بھارت بھر میں انتہا پسند ہندوؤں نے طوفان بدتمیزی کھڑا کر دیا ان کے دباؤ پر کیرالہ ہائیکورٹ نے ہادیہ کی شفیع سے شادی کو معطل کر دیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں