“منافقت مت کرو” نجم ولی خان کا کالم شہریاراں

پاکستان کے آئی ایم ایف کے ساتھ سٹینڈ بائی ایگریمنٹ کے بعد، جس کے تحت نو ماہ میں تین ارب ڈالر ملیں گے، کچھ لوگوں کی چیخیں نکل رہی ہیں۔ یہ وہ ہیں جو تیرہ، چودہ ماہ سےاپنے ہی ملک کے ڈیفالٹ ہونے کی خواہش اور انتظار ہی نہیں کر رہے بلکہ اس کی راہ ہموار کرنے کے لئے با قاعدہ امریکہ میں لابنگ فر میں ہائر کر رہے ہیں۔ یہ وہ بد بخت ہیں جو امریکی سینیٹروں سے اس خط پر دستخط کروا رہے ہیں کہ امریکہ پاکستان کی فوج کو اسلحے کی سپلائی روک دے یعنی وہ بھارت جیسے دشمن کے مقابلے میں ہتھل ہو کے بیٹھ جائے ۔ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے ایک منصوبہ بندی کے تحت نومئی کو جی ایچ کیو، کور کمانڈر ہاؤس اور شہدا کی یادگاروں سمیت دو سو مقامات پر سوچے سمجھے حملے کئے تھے ، ہاں، یہ وہی لوگ ہیں جن کے سرغنہ نے کہا تھا کہ اگر وہ اقتدار سے محروم ہو گیا ہے تو پاکستان پر ایٹم بم گرا دیا جائے۔ وزیر اعظم شہباز شریف ، عید کے دوسرے روز ، گورنر ہاوس میں بتا رہے تھے کہ سری لنکا کے صدر نے آئی ایم ایف کی ایم ڈی سے سفارش کی کہ ان کا ملک جن حالات سے گزرا، پاکستان کو ان سے نہیں گزرنا چاہئے اور یہ دوست نمادشمن ہیں کہ پاکستان کی معاشی موت کا انتظار کر رہے تھے، اس کی راہ ہموار کر رہے تھے تا کہ یہ دوبارہ مسلط ہوسکیں۔ ان منافقوں کی باتیں سننے والی ہیں، کوئی کہہ رہا ہے کہ پاکستان بھکاری بن گیا ہے اور کوئی کہہ رہا ہے کہ کیا ملک قرض سے چلتے ہیں۔ کسی کا کہنا ہے کہ اتنے پیسے تو تارکین وطن ایک ماہ میں بھیج دیتے اور کسی کو آئی ایم ایف کے نام سے اب چڑ ہو رہی ہے، چلیں، یہیں سے شروع کر لیتے ہیں کہ کیا آئی ایم ایف کے پاس نہیں جانا چاہئے تھا تو اس کا جواب ہے کہ کیا موجودہ حکومت آئی ایم ایف کے پاس گئی یا یہ کارنامہ عمران نیازی کی حکومت نے سرانجام دیا تھا اور ان شرائط پر سر انجام دیا تھا کہ خود ان کے رہنماوں کی آنکھیں باہر آگئی تھیں، انہی کے گورنر چودھری سرور نے کہا تھا کہ چھ ارب ڈالر کے لئے ملک کی ہر شے گروی رکھ دی گئی ہے، معاشی خود مختاری اس حد تک ختم کر دی گئی ہے کہ آپ اسے ریاستی خود مختاری کا خاتمہ بھی کہہ سکتے ہیں مگر اس وقت سب منافق واہ، واہ کی گردان کر رہے تھے۔ یہی وہ معاہدہ تھا جو تمیں جون کو ختم ہورہا تھا اور عمران نیازی اور اس کے ٹولے نے اپنے ہی کئے ہوئے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ریاست کے لئے بے شمار مسائل پیدا کر دیئے تھے۔ اس ٹولے نے سیاسی مقاصد کے لئے پٹرول کے نرخ کم کئے اور اگر یہ ٹولہ اپنے باپ کی کمائی سے ڈیڑھ سو روپے لیٹر پٹرول کی سہولت فراہم کرتا تو ہم بھی تالیاں بجاتے مگر یہ سب کچھ اقتصادی شہ رگ کاٹتے ہوئے کیا جا رہا تھا۔ میرا سوال اس ٹولے سے یہ ہے کہ کیا آئی ایم ایف اور قرضے ابھی برے ہوئے ہیں یا یہ ایک ڈیڑھ سال پہلے بھی برے تھے ؟ جن لوگوں کو آئی ایم ایف کے نام سے چڑ ہے تو وہ جان لیں کہ پاکستان نے آج ستک آئی ایم ایف کے اکیس پروگرام لئے ہیں اور ان میں سے صرف ایک پروگرام مکمل ہوا ہے جسے نواز شریف اور اسحق ڈار نے ہی مکمل کیا تھا اور آئی ایم ایف کو بائے بائے کہا تھا۔
منافقوں کا ٹولہ سوال کرتا ہے کہ کیا ملک قرضوں سے چلے گا اور یہ سوال کرتے ہوئے اس بات کی بھی شرم نہیں کھاتا کہ اس نے اپنے ساڑھے تین سالہ دور میں پاکستان کی تاریخ کےکل قرضوں کے ستر فیصد قرضے حاصل کئے اور ملک کو ایک بھی میگا پراجیکٹ نہیں دیا۔ کیا یہ سوال ان کی طرف سے بنتا ہے۔ پاکستان کو یا پاکستان کےوزیر اعظم کو بھکاری کہنے والے کیوں بھول جاتے ہیں کہ انہوں نے اپنے دور میں فوج کے سربراہ کو یہی ذمے داری سونپ دی تھی کیونکہ ان کے اپنے سربراہ کی عالمی سطح پر نہ نکے کی عزت تھی نہ کسی سےاچھا تعلق ۔ چین سے ایران اور سعودی عرب سے یواے ای تک ہر دوست ملک نے مسلسل حماقتوں کی وجہ سے اس کے نام پر کر اس لگا دیا تھا۔ امریکا کو یہ شخص ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم کے دوران غیر سفارتی مدد اور یوکرائن کی جنگ کا افتتاح کرکے ناراض کر چکا تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ سابق دور میں نہ کوئی خارجہ پالیسی تھی اور نہ ہی اقتصادی ۔ ایک شخص کو ایک دن خیال آتا تھا کہ ٹرمپ کو مسکالگانا ہے تو اس کو لگا دیتا تھا اور پھر خیال آتا تھا کہ اینٹی امریکا نعرہ لگانا ہے تو وہ لگا دیتا تھا۔ ایک روز وہ ملائیشیا وغیرہ کو یقین دلاتا تھا کہ وہ سعودی عرب کے خلاف ان کا ساتھی ہے اور پھر اگلے روز وہاں سے بھی بھاگ جاتا تھا۔ اب ایک بندہ یہ چورن بھی بیچ رہا ہے کہ اتنے پیسے تو تارکین وطن ایک مہینے میں بھیج دیں تو اس کا کیا شافی اور کافی جواب دیا گیا ہے کہ پھر تم تین سال سات ماہ اور اکیس دن تک اقتدار میں رہے، اس پورے دور میں ایک مرتبہ بھی تارکین وطن نے یہ پیسے کیوں نہیں بھیجے۔ یہ تارکین وطن والا چورن بھی عجیب ہے اور ان کا حال یہ ہے کہ جب انٹر بینک اور اوپن مارکیٹ کا فرق بڑھا تو انہوں نے ہنڈی سے پیسے بھیجنے شروع کر دیئے۔ تلخ نوائی کی معافی مگر ایک بات یادرکھیں کہ تارکین وطن کسی وطن شطن کو پیسے نہیں بھیجتے ، وہ اپنی ماؤں، باپوں، بیویوں ، بچوں کو بھیجتے ہیں ، باقی احترام واجب سو میرا منہ ان کی اخلاقیات کے بارے بند ہی رہے تو بہتر ہے۔ منافقوں کا ٹولہ کہتا ہے کہ قرض لینا بہت بری بات اور میں پوچھتا ہوں کہ اگر تمہارا کوئی پیارا بستر مرگ پر ہو اور قرض سے اسے دوا اور زندگی مل رہی ہو تو کیا تم پھر بھی اس قرض کو غلط کہو گے، برا کہو گے یا اسے لینے بھا گو گے، ہاں، یہ ضرور ہو سکتا ہے کہ جیسی تمہاری اخلاقیات ہیں، تمہارا باپ مرنے والا ہو اور کسی قرض سے لی دوایا آپریشن سے بچ سکتا ہو تو تم وہ نہ لو اور باپ کو مرنے دو تا کہ اس کے ورثے پر قبضہ کر سکو۔ پاکستان مادر وطن ہے۔ ہمارے لئے قرض برا ہے مگر اس سے بھی بری شے پاکستان کی معاشی مصیبت اور اقتصادی ہلاکت ہے۔ پاکستان کی معیشت اور اقتصادیات کو بچانے کے لئے اگر قرض لینا پڑ رہا ہے تو اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی اعلان ہو رہا ہے کہ ہم اسی طرح آئی ایم الیف کو بائے بائے کہیں گے جیسے پہلے کہہ چکے تو کوئی حرج نہیں، کچھ برا نہیں۔ مجھے یہ کہنے میں عار نہیں کہ اگر دو ہزار تیرہ سے دو ہزار اٹھارہ والا دور چلتا رہتا، عمران نیازی جیسی نا اہل شے کو پری پول مینجمنٹ، پولنگ ڈے کی دھاندلی اور پوسٹ پول بدمعاشی سے وزیر اعظم بنا کے نہ ٹھونسا جاتا تو آج پاکستان کو یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.