سمندر برد ہونے والی ٹائٹین باپ بیٹے کی محبت کو ہمیشہ کےلئیے لازوال کرگئی

باپ بیٹے نے اس تصویر میں لازوال محبت کے رنگ بھر دیے❤️❤️ آخری لمحوں میں بیٹا یونہی باپ کولپٹا ہو گا۔اور باپ نے بے یارومددگار ہوتے ہوئے بھی بیٹے کو کس سے بانہوں میں لے کر تحفظ کا احساس دلایا ہو گا۔۔۔وہ سب جو اس واقعے پر واویلا کر رہے ہیں کہ کیوں گئے، اتنی مہنگی موت خریدی،‏یہ ہی پیسہ وہ کسی نیک کام میں بھی لگا سکتے تھے وغیرہ وغیرہ۔۔۔تو بھائی کیا آپکی جیب سے لگا۔۔۔اور وہ کتنے رفاحی کام کرتے تھے اسکا آپکو کیا معلوم یہ تو اب کھلے گا کہ کیا کیا کرتے رہے تھے ۔۔۔siut کے علاوہ بھی سنا بے شمار ہسپتالوں کے ٹرسٹی تھے۔۔۔اللہ نے اتنا نوازا تو کوئی وجہ تو ضرور ہو گی نوازنے کی۔۔اور اب اگر اس نے اپنے پاس ایسے بلا لیا تو یہ بھی اللہ کا کام ہے میں آپ دخل دینے والے کون ہیں۔۔یقین کریں اگر آپکو علم ہو جائے کہ شدید پیاس کے باوجود جو پانی کا یخ گلاس آپکے سامنے پڑا ہے اسکو پینے سے آپکی موت واقع ہو جائے گی،تو آپ پیاسے مر جائیں گے مگر وہ ہانی پی کر مرنا پسند نہیں کریں گے۔۔تو یقیناً انکو بھی علم نہیں تھا ۔۔اور اگر بالفرض یہ باپ بیٹا کامیاب واہس لوٹ آتے تو میں نے آپ نے سوکے منہ ہی چوڑے ہوئے پھرنا تھا کہ وہ جو ٹائی ٹینیک دیکھ کر آئیں ہیں نا وہ جگرے والے باپ بیٹا پاکستانی ہیں
بس کر دیں ۔۔۔اگر انکا غم نہیں بانٹ سکتے، انکی مغفرت کے لیے دعا نہیں کر سکتے تو چپ ہی کر جائیں۔۔نا وہ آپکی جیب کاٹ کر گئے تھے نا ہی آپکو انکی قلوں کی روٹی پڑ گئی ہے تو اپنے اپنے دھندے دیکھیں،ویسے بھی ہر امیر سے نفرت،اور اس کی دولت کو شک کی نگاہ سے دیکھنا ہم پاکستانیوں کی عادت ہے۔۔بھلے وہ امیر سرمایہ کار اپنے سرمائے کو لگا کر بےشمار گھروں کے روزگار کا باعث ہی کیوں نا ہوں۔۔۔۔۔لہذا ایک دوسرے کے بارے میں اچھا گمان رکھا کریں اور ایک دوسرے کے حق میں دعا بھی کیا کریں۔شکریا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.