ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی مکمل کہانی

بہت سے لوگ سوال کرتے ہیں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کون ہیں اور ان کو جیل کیوں ہوئ تھی المختصر تو جواب نہیــــــــں تھا اس لیے پوسٹ کر رہا ہوں تاکہ جو جو بھی لاعلم ہیں اس بات سے وہ بھی جان لیں اور ڈاکٹر عافیہ صاحبہ کا ساتھ دیں..

ڈاکٹر عافیہ صدیقی کون ہے؟ انکو 86 سال کی سزا کیوں ہوئی؟


ڈاکٹر عافیہ صدیقی 1972 میں کراچی میں پیدا ہوئیں اپنی ابتدائی تعلیم مکمل کر کے 1990 میں اسٹوڈینٹ ویزا پر مزید تعلیم حاصل کرنے امریکہ کی ریاست ٹیکساس گئیں جہاں پہلے ہی ان کا بڑا بھائی آرکیٹکچر کی تعلیم حاصل کر رہا تھا – ڈاکٹر عافیہ نے 1992 میں اپنی ایک ریسرچ کی وجہ سے امریکہ میں پانچ ہزار ڈالر کا انعام بھی حاصل کیا – 1995 میں انہوں نے ایک سائنسدان امجد محمد خان سے شادی کی جس سے ان کے دو بیٹے اور ایک بیٹی تھی اور یہ ہی شخص ڈاکٹر صاحبہ کی بربادی کا سبب بنا کیونکہ اپنے ذاتی مفاد کی خاطر امجد محمد خان سی آئی اے کا مہرہ بن چکا تھا جسے بعد میں ڈاکٹر عافیہ کے خلاف استعمال کیا گیا – ڈاکٹر عافیہ نے ذاتی طور پر بائیو کیمسٹری پر کام کرتے ہوئے ایک ایسی شاندار ریسرچ کی تھی جو آج تک کوئی امریکی سائنسدان بھی نہ کر سکا – ڈاکٹر عافیہ نے مہلک ہتھیار تیار کرنے کا فارمولا ایجاد کر لیا تھا جو آج تک ان سے کوئی بھی معلوم نہ کر سکا – ڈاکٹر عافیہ یہ فارمولا پاکستان یا عالم اسلام کی بھلائی کے لیے استعمال کرنا چاہتی تھیں جبکہ امریکہ چاھتا تھا کہ عافیہ یہ فارمولا انہیں دے دیں جس کے لئے ڈاکٹر عافیہ نے صاف انکار کر دیا کیونکہ انہیں خدشہ تھا امریکہ ان کا فارمولا اسلام اور مسلمانوں کے خلاف استعمال کرے گا –
اور یہاں سے وہ کہانی شروع ہوئی جس نے ڈاکٹر عافیہ کی زندگی برباد کر دی – ڈاکٹر عافیہ کی تعلیم اور تحقیق امریکہ میں مکمل ہوئی تھی اس لئے وہاں کے سائنسدان اس ریسرچ سے واقف تھے جس کی بنا پر انہوں نے ایف بی آئی کو رپورٹ کر دی کہ عافیہ کے پاس ایسی ریسرچ ہے جو اگر پاکستان کے ہاتھ لگ گئی تو وہ اسے امریکہ کے خلاف استعمال کرے گا –
2002 میں ڈاکٹر صاحبہ کو طلاق ہوئی تو ان کے شوہر نے ڈاکٹر عافیہ پر من گھڑت الزامات لگائے جس کے بعد ڈاکٹر عافیہ پاکستان واپس ا گئیں کیونکہ وہ یہاں رہ کر پاکستان کے لئے کام کرنا چاہتی تھیں مگر افسوس اس وقت پاکستان نے ان کا ساتھ نہ دیا اور 2003 میں مشرف نے ایک سنگین غلطی کرتے ہوئے ڈاکٹر عافیہ کو امریکہ کے حوالے کر دیا جو ان کا اپنا ذاتی فیصلہ تھا جس میں فوج کا عمل دخل شامل نہ تھا – پانچ سال تک کوئی نہ جانتا تھا کہ ڈاکٹر عافیہ کہاں اور کس حال میں ہیں – جب عافیہ کی گرفتاری کی تصدیق ہوئی تب تک پاکستان ڈاکٹر عافیہ کی شکل میں ایک ذہین اور قابل خاتون کو کھو کر ناقابل تلافی نقصان حاصل کر چکا تھا –
امریکیوں نے ڈاکٹر عافیہ سے رسرچ ورک حاصل کرنے کے لئے بہت دباؤ ڈالا جس کے لئے ڈاکٹر عافیہ کو زہینی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے ظلم کا ہر پہاڑ توڑ دیا گیا مگر وہ عافیہ کی زبان نہ کھلوا سکے یہاں تک کہ ان کے ایک بچے قتل کر دیا گیا مگر ڈاکٹر عافیہ کو آج تک زندہ رکھا ہوا ہے جس کی وجہ ان کی ریسرچ اور فارمولا ہے جو اس قدر طاقتور ہے کہ اس کے حصول تک امریکہ عافیہ صدیقی کو زندہ رکھنے پر مجبور ہے – امریکہ نے ڈاکٹر عافیہ کے کچھ ساتھیوں کو بگرام جیل بھی بھیجا تاکہ وہ عافیہ سے بات چیت کر کے ان سے فارمولا حاصل کر سکیں مگر وہ سب ناکام ہو گئے کیونکہ ڈاکٹر صاحبہ نے انکار کرتے ہوئے کہا تھا اگر یہ فارمولا امریکہ کو مل گیا تو وہ مجھے مارنے کے بعد دنیا کو تباہ کر دے گا جو میں نہیں چاہتی – اس انکار کے بعد ڈاکٹر عافیہ پر اس قدر ظلم کیا گیا کہ وہ ذہینی طور پر مفلوج ہو گئیں مگر زبان نہ کھولی –
2013:میں جب امریکہ عافیہ سے مایوس ہو گیا تو بارک اوباما نے پاکستان سے کہا وہ ڈاکٹر عافیہ کی واپسی کے لیے تیار ہے مگر اس وقت کی حکومت پاکستان نے کوئی دل چسپی نہ لی اور اب تک عافیہ صدیقی امریکہ کی قید میں ہیں لیکن تا حال حکومت کا اس پر کوئی رد عمل نظر نہیں آیا
انکی بہن فوزیہ کی ملاقات دیکھ کر سوشل میڈیا پر بھرپور آواز اٹھائی جا رہی ہے

اور امید ہے ہم جلد ہی ڈاکٹر عافیہ کو آزاد دیکھ سکیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.