نظام انصاف تباہ شد، آمریت کی آمد آمد، پی ٹی ائی اور پیپلز پارٹی کو پروٹوکول، ن لیگ بدستور معتوب، وفاق میں پیپلز پارٹی، اور پنجاب میں ترین اور ق ہیرو، ن لیگ سپورٹنگ کردار: م ج ش

عمران خان کی سب سے بڑی انویسٹمنٹ اسٹیبلشمنٹ میں نیچے سے اوپر تک خاموشی سے اپنے بندے لگانے کے ساتھ ساتھ چھوٹی سے بڑی عدالتوں میں ہم خیال ججز کی تعیناتی تھی۔ یہ ایسی کھلی چال تھی جس کے طویل مدتی ثمرات اور اثرات کا سیانی بیانی اسٹیبلشمنٹ بھی بروقت اندازہ نہ کرسکی۔ اب حسب معمول پی ٹی آئی کے ہر بندے کو نہ صرف فوری ضمانتیں ملیں گی بلکہ سیدھے بری بھی ہوتے جائیں گے اور پی ڈی ایم بالخصوص ن لیگ والے بے گناہ بھی ہوں تو الٹے لٹکا دئیے جائینگے۔ یوتھیا عدالتوں نے نظام انصاف کا پورا سوشل اسٹرکچر بی تباہ کرکے رکھ دیا ہے۔
اور رہی عظیم اتحادی حکومت تو یہ ججز اور بڑے افسر تو دور ابھی تک پی ٹی ائی کے لگائے ایس ایچ اوز تک نہیں بدل سکی، ن لیگیوں کے نام ابھی بھی شرپسندان مسلم لیگ ن نامی فائیل میں درج ہورہے ہیں، تھانوں اور سرکاری دفتروں میں آج بھی پی ٹی ائی اور اس کے بعد پی پی پی کے لوگوں کو پروٹوکول دیا جاتا ہے جبکہ ن لیگیوں کو بطور خاص گھنٹوں انتظار میں کھڑا رکھ کر ٹرخا دیا جاتا ہے بیٹھنے تک نہیں دیا جاتا۔
ن لیگ کو اس وہم اور خوش گمانی میں رکھنے کی کوشش کی جارہی ہےکہ یہ حکومت کر رہی ہے مگر درحقیقت حکومت کے مزے بدستور پی ٹی آئی اور ایک مخصوص جماعت لوٹ رہی ہیں جو نہ صرف حکومتی جماعت ہونے سے انکاری ہے بلکہ فخریہ اظہار کرتی ہے کہ یہ پی ڈی ایم حصہ نہیں ہے۔ زرداری صاحب، ترین صاحب، چوہدری برادران اور ہمنواءدھڑلے سے دن رات ن لیگ کے بچے کھچے قلعے پنجاب اور تخت لاہور میں نقب لگانے کی کوششوں میں مصروف ہیں جبکہ ن لیگ کو سندھ میں اپنے کارکنوں کے آنسو تک پونچھنے کی اجازت اور بظاہر فرصت نہیں، پی ٹی آئی یونیورسٹی آف ٹیررازم اور پروفیسر آف سبوتاژ عمران خان سے تربیت یافتہ فارغ التحصیل شرپسند نہلا دھلا کر صاف ستھرے کپڑے پہنا کر ڈاکٹر جہانگیر ترین کی ڈیوڑھی میں داخل کئیے جارہے ہیں۔ جہاں انہیں انتخابی سیاسی اور جنگی مشقوں کے گر سکھانے اور آزمانے کےلئیے پچھلے نقائص کی دوری کے ساتھ جدید اور بھرپور سہولیات سے آراستہ ٹریننگ سنٹر دستیاب کئیے گئے ہیں۔ جہانگیر ترین و ہمنواء اور ق لیگ تخت پنجاب کےلئیے مضبوط امیدوار کے طور پر سامنے آنے جارہے ہیں جبکہ پیپلز پارٹی اور زرداری بلاول کو اگلا وزیراعظم بناکر پیش کر رہے ہیں، تو ن لیگ کے حصے کیا آنے جارہا ہے؟ اور اب تو یہ نتائج بھی سربستہ راز نہیں رہے کہ پیپلز پارٹی اور پی ڈی ایم نے حکومت کے پس منظر میں رہ کر صرف بھرپور سیاسی و مالی مفادات ہی سمیٹے ہیں جبکہ حکومت لینے سے عین قبل تک عوام میں مقبولیت کی انتہاؤں کو چھوتی ن لیگ ملک کو ڈیفالٹ سے بچانے معیشت کی بحالی اور ایٹمی قوت بچانے بچانے کےلئیے تیروں اور پتھروں کی بوچھاڑ کے سامنے سینہ تانے مسلم لیگ ن نے پیش منظر پر رہتے ہوئے سخت ترین فیصلوں کے تمام تر مضرات تن تنہا اپنے اوپر لئیے ہیں اور اس بناء پر اپنے دیرینہ جانثار کارکنوں کی ناراضی اور عوام میں غیرمقبولیت کا سامنا کر رہی ہے، جو سیاسی برزجمہر اس حقیقت کے مسلسل فراموش کررہے ہیں کہ دہشت گرد جماعت کو مکمل اور موثر ٹھکانے نہیں لگایا جاسکا اگے بھی اس کے امکانات مزید کم ہوتے جارہے ہیں اس پارٹی کے کینسر سے متاثرہ ووٹ بنک پر کسی نے ورکنگ کرنا مناسب نہیں سمجھا جو اپنی جگہ بھرپور برقرار ہے بلکہ اب اسے ہمدردی کا ایڈوانٹیج بھی ملنا شروع ہو چکا ہے مذکورہ پارٹی بھی کم ازکم مگر لازمی اسٹرکچر کے ساتھ اپنی جگہ موجود ہے، دائیں بائیں تتر بتر ہونے والے سرکردہ کارندے بھی اب تتر بتر نہیں رہے پہلے نمبر پر ترین دوسرے نمبر پر ق لیگ اور تیسرے نمبر پر زرداری کے جھنڈے تلے جمع ہوکر بھرپور متحرک ہونے جارہے ہیں
ان حالات میں واحد حل ایک قابل اعتماد مگر بے رحم مطلق العنان آمریت ہی رہ جاتا ہے جس کی ضرورت دن بدن ناگزیر ہوتی چلی جارہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.