نسلی کتا،سی پیک اور سنگین ٹریپ؟

فوج نے نسل جانچے بغیر کبھی گائے گھوڑا اور کتا تک نہیں پالا مگر پہلی بار عمران کے معاملے میں رولز ریلیکس کئیے اور بدترین تکلیف اور نقصان اٹھایا۔
پوری دنیا میں اس وقت ڈالر کی بجائے نئی کرنسی کی لانچنگ چل رہی ہے چین اپنی کرنسی دنیا میں آگے لانا چاہتا ہے پاکستان چین کا سب سے بڑا حمایتی ہے جو امریکہ کو کسی صورت بھی برداشت نہیں ملک دشمنوں کے مفادات کے تحفظ اور قومی مفاد پر کاری ضرب لگا کر سی پیک منصوبے کی تباہی کے لئے عمران نیازی 2014 سے لیکر ابتک ایک اچھا مہرا ثابت ہوا ہے عدلیہ سے لیکر ہر ادارے میں ڈالروں گوریوں اور ولائتی شراب کے نشئی امریکی غلام بیٹھے ہیں جو امریکہ کو خوش کرنے، سی پیک کو رکوانے اور مملکت خداداد پاکستان کو نقصان پہنچانے کے لئے کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں ۔

فوج نے نسل جانچے بغیر کبھی گائے گھوڑا اور کتا تک نہیں پالا مگر پہلی بار عمران کے معاملے میں رولز ریلیکس کئیے اور بدترین تکلیف اور نقصان اٹھایا۔
پوری دنیا میں اس وقت ڈالر کی بجائے نئی کرنسی کی لانچنگ چل رہی ہے چین اپنی کرنسی دنیا میں آگے لانا چاہ
پاک فوج سے گذارش ہے کہ اپ کی دی ہوئی چھوٹ سے یہ ناسور اتنا بڑھ سکا کہ ملک و قوم کی سلامتی خطرے میں پڑ گئی ہے، ایسے موقع پر نیوٹرل ہونا اس فتنے کو طاقت دینے کے مترادف ہے پہلے سب سے مل کر اس گند کی صفائی کریں پھر ضرور نیوٹرل ہوں۔
مزید جس دشمن نے وطن کی حرمت اور دشمن پر دہشت کی نشانیوں، کلمہ طیبہ، قومی قوت کی علامتوں پر کاری ضرب لگائی، دشمنان وطن کو خوشیاں منانے اور ثھثھا اڑانے کا موقع دیا اس کے خلاف نیوٹرل ہونا سرنڈر کرنے کے مترادف ہے، یہ غدار وطن علتاف ھصین کا گریٹر پارٹ ہے اس کا علاج نہ کیا تو خاکم بدہن خدانخواستہ ڈھاکہ فال سے بھی بڑا نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔
اس بدبخت کے علاج کےلئیے اس کے بدترین ملک دشمنوں سے روابط، فنڈنگ اور اس کی پارٹی میں موجود افغانیوں اسرائیلیوں اور قادیانیوں پر ہاتھ ڈالنا اور پھر قانون کے کٹہرے میں لانا ہی کافی ہوگا۔
فوج پر ملک دشمنوں کے موجودہ کاری وار میں بدقسمتی سے فوج کی صفوں میں اس کے چند حاضر سروس اور ریٹائرڈ زومبیز کا بھرپور کردار نظرانداز نہیں کیا جاسکتا ان گھر کے بھیدیوں کا سراغ لگا کر مکمل بندوبست ضروری ہے۔
آج اس کے قریبی دوست میڈیا پرسن حسن نثار نے سماء نیوز پر دو فقروں میں اس کی پالیسی واضح کردی ہے کہ عمران خان نامی عذاب سے چھٹکارے کی دو ہی صورتیں ہیں یا تو اسے حکومت ( لائف ٹائم مطلق العنان حکومت) دے دو یا اس کی جان لے لو، اس کے سوا تیسرا راستہ نہیں ہے مگر اب ہمیں دشمن کی کمک کاٹ کر اس کی ساری ڈوریاں چوریاں موریاں تجوریاں سینہ زوریاں ہمیشہ کےلئیے بند کرکے تیسرا راستہ نافذ کرکے دکھانا ہے.
آخری بات ایک سنگین لمحہء فکریہ برادر نجم ولی کے بقول “کیا یہ اتنا ہی سادہ اور آسان تھا کہ چند سو لوگ اٹھیں، کینٹ میں کور کمانڈر ہاوس پر حملہ کر دیں، جناح ہاوس میں جلاو گھیراؤ کریں، لوٹ مار کریں اور نکل جائیں؟ نہیں، یہ وہاں اتنا سادہ تو نہیں ہو سکتا جہاں موومنٹ لمحوں کی بات ہو۔
کیا یہ کوئی ٹریپ تھا اور اگر تھا تو کس قیمت پر؟ فوج کی عزت، وقار اور پروفیشنل امیج کی قیمت پر؟”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.