بندر اور اس کے سیب

ایک بندر بہت خوش باش رہتا تھا۔ پورا دن جنگل میں چھلانگیں لگاتا رہتا اور جب بھوک لگتی تو درخت سے سیب توڑ کر کھا لیتا تھا۔ ایک دن وہ جنگل میں کسی لکڑی کے ہٹ کے پاس سے گزر رہا تھا۔ اندر گیا تو دیکھا کہ میز پر ایک بڑے سے ڈونگے میں ڈھیر سارے سیب رکھے تھے۔سیب بالکل سرخ تھے اور بہت بڑے بڑے تھے۔ اتنے چمکیلے سیب دیکھ کر اس کی رال ٹپکی اور وہ اس میں سے چار پانچ سیب اٹھا کر باہر بھاگ گیا۔ جب وہ کافی دور پہنچ گیا اور سمجھا کہ اب کوئی اس کا پیچھا نہیں کر سکتا تو ایک درخت کے نیچے چھپ کر اس نے ایک سیب پر زور سے چک مارا۔ سیب اتنا سخت تھا کہ اس کے دانت میں درد اٹھا۔ اس کو سمجھ نہیں آیا کہ وہ لکڑی کے سجاوٹ والے سیب تھے۔ خیر وہ ان سیبوں کو ہر وقت اپنی جھولی میں لے کر پھرتا رہتا۔
باقی سارے بندر للچائی ہوئی نظروں سے اس کے سیب تاڑتے اور وہ انہیں مزید زور سے دبوچ لیتا۔ دو دن وہ اسی طرح اپنے سیب لے لے کر ادھر ادھر کودتا رہا۔ بیچ میں کئی دفعہ اس نے انہیں کھانے کی دوبارہ ناکام کوشش کی۔ دو دن بعد وہ ایک سیب کے درخت کے نیچے بیٹھا ہوا تھا اور اپنے سیب دیکھ دیکھ کر خوش ہو رہا تھا کہ اس کو درخت پر لگے اصلی سیبوں کی خوشبو ستانے لگی۔ اسے کچھ سمجھ نہیں آتا تھا کیونکہ وہ تمام سیب ہرے تھے اور خوبصورت اور لذیذ نہیں لگتے تھے اور اس کے اپنے لکڑی کے سیب کہیں زیادہ خوش ذائقہ نظر آتے تھے۔ اس نے پیڑ پر لگے سیبوں کو نفرت سے دیکھا اور لکڑی کے سرخ سیب دبا کر ادھر سے چلا گیا۔ پانچویں دن وہ جنگل کا سب سے خوش باش بندر نہیں رہا تھا۔
اس کی حالت بھوک کے مارے اتنی بری ہو گئی تھی کہ یہ لکڑی کے سیب اٹھا کر ایک پیڑ سے دوسرے پر کودنے میں بھی اس کو مشکل پیش آنے لگی۔ آخر کار تھک ہار کر اس نے ایک درخت سے ہرے سیب توڑے اور ان کو کھانے لگا۔ اس نے وہ چمکیلے سرخ لکڑی کے سیب پھینک دیے اور اگلے درخت کی طرف چل پڑا۔ اس دن کے بعد وہ دوبارہ جنگل کا سب سے خوش باش بندر بن گیا۔حاصل سبق انسان اکثر بالکل غیر ضروری چیزوں کے ساتھ جذباتی لگاؤ لگا لیتا ہے اور ان کو اپنے دل میں جگہ دے کر اپنے لیے مفت کی ٹینشن پالتا رہتا ہے۔ کسی انسان کو کوئی چیز پسند ہوتی ہے اور کسی کو کوئی۔ کبھی وقت نکال کر فارغ بیٹھیں اور اچھے سے غوروفکر کریں کہ آپ جن چیزوں کے پیچھے لگاتار بھاگ رہے ہیں کیا ان میں سے کوئی ایک بھی در حقیقت اس قابل ہے کہ اس پر اتنا وقت اور توانائی ضائع کی جائے۔
ایک انسان جب اپنا بزنس کرتا ہے تو خود کو بڑا پھنے خان تصور کرتا ہے اور اسے لگتا ہے کہ میں بہت تخلیقی اور کار آمد انسان ہوں ۔ میں محنت کر کے پیسے کما رہا ہوں لیکن وہ یہ نہیں سوچتا کہ اگر وہ ہر وقت کام کرنے کے بجائے باہر کھلی آب و ہوا میں نکلے۔ سرسبز میدانوں میں اپنے بچوں کے ساتھ گھومے پھرے تو وہ کتنا زیادہ لطف اندوز ہو سکتا ہے۔ اپنی زندگی کا کچھ حصہ کام کے لیے مختص کرو مگر باقی زندگی خوش باش بسر کرنے کی کوشش کرو۔ ہم جن چیزوں کے پیچھے اندھا دھند بھاگ رہے ہیں وہ ہمیں اصل میں خوشی نہیں دیتی بلکہ تھکا دیتی ہیں۔ کبھی کبھی کچھ ایسی چیزوں، لوگوں اور مشغلوں کو چھوڑ دینا بہتر ہوتا ہے جو ہمیں بہت پیاری ہوں کیونکہ وہ ہمیں تھکا دیتی ہیں۔ جب ہم چھوڑ دیتے ہیں تو ان سے پیار بھی ختم ہوتا جاتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں