سیلفی جان لیوا ہوسکتی ہے، بھارتی ریاست میں آگاہی مہم

ہوشیار خبردار ، سیلفی کے شوق میں اپنی زندگیوں سے نہ کھیلیں،بھارتی ریاست کرناٹک میں سیلفی کے جان لیوا ہونے کے حوالے سے آگاہی مہم شروع کردی گئی۔ سیلفی لیتے ہوئے حالیہ دنوں میں 4نوجوان اپنی جان گنوا بیٹھے۔

اس مہم کا آغاز حالیہ دنوں میں سیلفی لیتے ہوئے 4 طلبہ کی اموات کے بعد کیا گیا ہے ، جس میں ایک ہلاکت اس وقت ہوئی جب بنگلور میں دوستوں کا ایک گروپ تالاب میں غوطہ خوری کرتے ہوئے سیلفی بنانے میں مگن تھا ، اس دوران پیچھے ایک دوست ڈوب گیااور کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی ۔

اسی طرح چند ہفتے بعد ایک اور واقعے میں 3نوجوان اس وقت ٹرین کی زد میں آ کر ہلاک ہو گئے تھے جب وہ سیلفی لینے کی کوشش کر رہے تھے۔

بھارت میں 1 ارب 10کروڑموبائل فون کنکشن ہیں اور 30 کروڑ سے زیادہ افراد سمارٹ فون استعمال کر رہے ہیں۔

ماہرین کہتے ہیں کہ سوشل میڈیا کے جنون میں مبتلا نوجوان بہترین سیلفی کے لیے کسی بھی حد تک چلے جاتے ہیں اور اکثر بے پروائی میں غیر ضروری خطرات مول لیتے ہیں، ان میں سے بیشتر نوجوان ہوتے ہیں۔

کارنیگی میلن یونیورسٹی اور دہلی میں پرستھ انسٹی ٹیوٹ آف انفارمیشن کی تحقیق کے مطابق حالیہ برسوں میں بھارت میں کسی بھی ملک کے مقابلے میں سیلفی سے متعلق اموات زیادہ ہوئی ہیں۔

تحقیق کے مطابق 2014 سے 2016 کے دوران دنیا بھر میں سیلفی کے جنون کے ہاتھوں 127 لوگوں کی جانیں گئیں جن میں سے 76 اموات بھارت میں ہیں اور اس کا شکار ہونے والے زیادہ تر نوجوان تھے۔

لوگ انوکھی اور یادگار ترین سیلفی لینے کے دوران ٹرین کی زد میں آئے، اونچائی سے گرے، دریا، تالاب یا سمندر میں ڈوب گئے۔

ماہ جون میں شمالی بھارت کے شہر مراد آباد میں پولیس نے سیلفی کے عادی افراد کو جیل میں ڈالنے کی دھمکی دی تھی جبکہ گزشتہ سال ممبئی میں ایک لڑکی کے سیلفی لینے کے دورا ن سمندر میں ڈوبنے کے بعد سیاحتی مقامات پر ’نو سیلفی زون‘ کے بورڈ لگانا شروع کردیے ہیں۔

اس حوالے سے سیاحت کے وزیر کہتے ہیںکہ صر ف بورڈ لگانے سے بات نہیںبنے گی کیونکہ واقعہ یا سانحہ کہیں بھی ہوسکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.