دھرنا میں ایسے شرپسند عناصر موجود ہیں جو لاشیں گرانا چاہتے ہیں، وزیرداخلہ

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے جمعرات کے روز قومی اسمبلی کو بتایا ہے کہ فیض آباد میں دھرنا دینے والے مذہبی گروپ میں ایسے شرپسند عناصر موجود ہیں جو لاشیں گرانا چاہتے ہیں کہ تاکہ ملک میں افرا تفری پیدا ہو۔ انہوں نے کہا کہ حکومت دہری مشکل میں ہے۔ ایک طرف عوام کی مشکلات ہیں تو دوسری جانب خون خرابے کی سازش کا خطرہ ہے۔ یہ لوگ ماڈل ٹائون جیسا ایک اور سانحہ چاہتے ہیں اور ہم تشدد سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں تاہم حکومت کسی بھی اقدام کیلئے تیار ہے۔ جماعت اسلامی کے صاحبزادہ طار ق اللہ کے ایک نکتہ کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دھرنا دینے والوں کے وفد سے حکومت مقامی انتظامیہ کی سطح پر مذاکرات ہوتے رہے ہیں۔ وہ خود بھی ان کے وفد سے ملے ہیں لیکن ان کا یہ مطالبہ قطعی قابل قبول نہیں کہ وزیر قانون مستعفی ہو جائیں۔ یہ کوئی طریقہ نہیں۔ ان کے بعد کل کسی اور موقع پر تین ہزار لوگ پھر اکٹھے ہو کسی اور کا استعفیٰ ما نگ لیں کہ ہمیں کسی کی شکل اچھی نہیں لگتی۔ کسی کا استعفیٰ لینے کیلئے ٹھوس وجوہ ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ مظاہرہ کرنا ان کا جمہوری حق ہے اور اس کیلئے پریڈ گرائونڈ حاضر ہے۔ حب رسول کے دعویداروں کو عوام کیلئے مشکلات پیدا نہیں کرنی چاہییں۔ انہوں نے کہا کہ اگلے ہفتے پاک چین معاشی راہداری کے حوالہ سے اعلیٰ سطح کا اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہو رہا ہے۔ انہوں نے قومی اسمبلی میں موجو ددینی جماعتوں سے درخواست کی کہ وہ اپنا جرگہ لے کر دھرنا دینے والوں کے پاس جائیں۔ ڈسٹرکٹ میجسٹریٹ اسلام آباد نے فیض آباد میں تحریک لبیک یا رسول اللہ پاکستان کی قیادت کو خط لکھا ہے کہ وہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم پر فوری عملدرآمد کرتے ہوئے اپنا دھرنا ختم کردیں اور اگر یہ دھرنا جاری رکھنا ہے تو اس کیلئے ضلعی حکومت سے تحریری اجازت طلب کی جائے ڈسٹرکٹ میجسٹریٹ نے اس خط کی کاپی ایس ایس پی اسلام آباد کو بھی بھجوا دی ہے خط میں دھرنے کی قیادت سے کہا گیا ہے کہ چونکہ اسلام آباد ہائیکورٹ رٹ پٹیشن نمبر3896/2017 میں دھرنے کو غیر قانونی قرار دے کر اسے فوری طور پر ختم کرنے کا حکم دے چکی ہے اس لئے عدالت عالیہ کے حکم کے بعد دھرنا جاری رکھنا توہین عدالت ہے آپ کو ہدائت کی جاتی ہے کہ فوری طور پر فیض آباد سے اپنا دھرنا ختم کردیں اگراس حکم پر عملدرآمد نہ ہوا تو معاملہ توہین عدالت کی جانب جائے گا جس پر مجاز اتھارٹی حکومتی رٹ برقرار رکھنے کیلئے سخت قانونی ایکشن کرے گی ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.