حکومت مخالف تحریک کا آغاز، اپوزیشن کا عمران خان کے خلاف مقدمات ختم کرنے کا مطالبہ

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اور ’تحریک تحفظ آئین پاکستان‘ کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ قرارداد کے ذریعے عمران خان اور ان کے ساتھیوں کے خلاف تمام مقدمات واپس لے۔
سنیچر کو بلوچستان کے ضلع پشین میں حکومت مخالف چھ جماعتی اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان کے جلسے سے خطاب میں محمود خان اچکزئی نے کہا کہ عمران خان پارلیمنٹ میں اکثریتی جماعت کے رہنما ہیں، ان کے خلاف تمام مقدمات واپس لیے جائیں۔
گذشتہ روز جمعے کو پاکستان کی حزب اختلاف کی جماعتوں نے ’تحریک تحفظ آئین پاکستان‘ کے نام سے اتحاد تشکیل دیا تھا جس کے سربراہ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی ہیں۔
اتحاد میں پاکستان تحریک انصاف، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی، سنی اتحاد کونسل، جماعت اسلامی، بلوچستان نیشنل پارٹی اور مجلس وحدت المسلمین شامل ہیں۔
محمود خان اچکزئی نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’شہباز شریف کے ارد گرد جو لوگ آج موجود ہیں یہی لوگ انگریز کے ساتھ بھی بیٹھے تھے۔ یہ فصلی بٹیرے ہر حکومت میں شامل ہوتے آ رہے ہیں۔ بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو ہمارے ساتھ وعدہ کرنا ہو گا کہ ان فصلی بٹیروں کو اپنی پارٹی میں شامل نہیں کریں گے۔‘
محمود خان اچکزئی نے نو مئی کے حوالے سے کہا کہ ’نو مئی کو کون سا آسمان گرا، آپ نے جس پر مظالم کے پہاڑ تھوڑے آج وہ ملک کی سب سے مضبوط پارٹی کا لیڈر ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم پی ڈی ایم کے ساتھ رہے، شہباز شریف صاحب آپ نے ’ووٹ کو عزت دو‘ کا نعرہ لگایا تھا۔‘
جلسے سے خطاب میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان نے کہا کہ ’ہم جہاد کے لیے نکلے ہیں، تحریک کے ذریعے اپنا حق لے کر رہیں گے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ فارم 47 والے بیساکھیوں پر کھڑے ہیں عوام کا سمندر آپ کو بہا کر لے جائے گا۔
سردار اختر مینگل نے بلوچستان حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’بلوچستان میں فام 47 کی حکومت ہے اسٹیبلشمنٹ کی حکومت ہے، غیرقانونی الیکشن کمیشن کی حکومت ہے۔‘
’ملک میں عوام کا مینڈیٹ چوری کرنے والوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ الیکشن میں ایسے لوگوں کو کامیاب کرایا گیا جنہیں اہل محلہ نہیں پہچانتے۔‘

قبل ازیں

پاکستان کی حزب اختلاف کی جماعتوں نے ’تحریک تحفظ آئین پاکستان‘ کے نام سے اتحاد تشکیل دے دیا ہے جس کے سربراہ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی ہوں گے۔
اتحاد میں پاکستان تحریک انصاف، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی، سنی اتحاد کونسل، جماعت اسلامی، بلوچستان نیشنل پارٹی اور مجلس وحدت مسلمین شامل ہیں۔
تحریک کے زیراہتمام پہلے دو جلسے آج بروز سنیچر بلوچستان کے شہر پشین اور چمن میں منعقد ہوں گے۔
اس بات کا اعلان تحریک انصاف کے مرکزی سیکریٹری جنرل اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان نے جمعے کو کوئٹہ میں حزب اختلاف کی جماعتوں کے اجلاس کے بعد کیا۔
اس موقع پر پشتونخوا میپ کے سربراہ محمود خان اچکزئی، بلوچستان نیشنل پارٹی کے صدر سردار اختر مینگل، سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین حامد رضا قادری، مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ راجا عباس ناصر، جماعت اسلامی کے قائم مقام امیر لیاقت بلوچ اور دیگر رہنما موجود تھے۔
اجلاس کوئٹہ کے مقامی ہوٹل میں منعقد ہوا جس کے اختتام پر مشترکہ پریس بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر قائد حزب اختلاف عمر ایوب کا کہنا تھا کہ ’اجلاس میں مستقبل کے لائحہ عمل پر غور کیا گیا، ہم نئی تحریک شروع کرنے جارہے ہیں جس کا کا نام ’تحریک تحفظ آئین پاکستان‘ رکھا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’یہ تحریک ملک میں پارلیمان اور آئین کی بالادستی کے لیے ہوگی۔ اس میں وکلا تنظیموں اور دیگر سیاسی جماعتوں کو بھی شامل کریں گے۔‘
عمر ایوب خان کے مطابق ’تحریک کے سربراہ محمود خان اچکزئی ہوں گے جبکہ ایک کوارڈینیشن کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے۔‘
’اس کوارڈینیشن کمیٹی میں تمام جماعتوں کی نمائندگی ہوگی اور اس کا پہلا اجلاس 29 اپریل کو لاہور میں طلب کیا گیا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’ملک میں پارلیمان کی بالادستی ہونی چاہیے۔ پاکستان میں اس وقت کی حکومت فارم 47 کی بیساکھیوں پر کھڑی ہے جسے مسترد کرتے ہیں۔ ملک میں دو قوانین رائج ہیں جنہیں ختم کرنا ہوگا۔‘
پشتونخوا میپ کے سربراہ محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ ’اتحاد میں شامل کوئی جماعت فوج اور نہ ہی خفیہ ایجنسیوں کی مخالف ہے۔‘
محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ ’ہم آئین کے دفاع پر ہم کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے‘ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
’ملک فوج اور ایجنسیوں کے بغیر نہیں چل سکتا۔ بہادر فوج ہے جو سرحدوں کی حفاظت کرتی ہے اور لوگ سکون سے سوتے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارا اختلاف آئین کی خلاف ورزی کرنے والوں سے ہے۔آئین ہمارا عمرانی معاہدہ ہے جس کا تقاضا ہے کہ سول شخصیت ہو یا عسکری کسی کے لیے توسیع نہیں ہونی چاہیے۔ آئین کے دفاع پر ہم کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔‘
سربراہ پشتونخوامیپ کا کہنا تھا کہ ’ہم نہ کسی کو گالیاں دیں گے اور نہ ہی بُرا بھلا کہیں گے۔ سیدھی بات ہے سول بالادستی کی بات کریں گے۔‘
سنی اتحاد کونسل کے سربراہ حامد رضا قادری نے کہا کہ ’اجلاس میں آئین اور قانون کی بالادستی پر اتفاق کیا گیا۔ ہم ملک میں آئین کی بالادستی چاہتے ہیں۔‘
بی این پی کے سربراہ اور سابق وزیراعلٰی بلوچستان سردار اختر مینگل نے اس موقع پر کہا کہ ’اس تحریک کا آغاز 25 سال پہلے ہی ہو جانا چاہیے تھا، اسے منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے سیاسی جماعتوں سے رابطے جاری رکھیں گے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’معلوم اور نامعلوم اداروں کی مداخلت کو نہیں ماننا ہوگا، تمام سیاسی جماعتوں کو مل کر اس صورت حال کا مقابلہ کرنا ہوگا۔‘
مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ راجا ناصر عباس نے کہا کہ ’پاکستان اس وقت آئین کے ہوتے ہوئے مملکت بے آئین ہے۔ ادارے سیاست کرنے لگے ہیں۔‘
’ہمارا آئین کہتا ہے کہ قانون کی حکمرانی ہونی چاہیے لیکن ملک میں اس وقت جنگل سے بھی بدتر قانون ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کے عوام کو اکٹھا کرکے عوامی تحریک چلائیں گے اور آئین کو کو نافذ کرکے رہیں گے۔‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.