بھارتی چیف جسٹس راہ راست پر آگئے، ججوں کیلئے روسٹر سسٹم بنا کر عام

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس دیپک مشرا نے کیسوں کو سپرد کیے جانے سے متعلق ججوں کا روسٹر سسٹم بنا کر عام کردیا ہے ۔13 صفحات پر مشتمل نوٹیفکیشن سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر موجود ہوگی، روسٹر سسٹم 5 فروری سے نافذ العمل ہوگا،اس سے قبل سپریم کورٹ میں کیسز چیف جسٹس اپنی مرضی سے روسٹر بناکر کیس سپرد کرتے تھے،اس فیصلے کو اخلاقی جیت کہا جارہا ہے اس کیلئے 4 ججز جسٹس چیلا مسور ،جسٹس رنجن گوگوئی ،جسٹس ایم بی لوکر اور جسٹس کرین جوزف نے 12 جنوری کو ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے شفافیت اور اہم کیسز جونیئر ججز کو دیے جانے پر سوالات اُٹھائے تھے،تاہم اب کیسز بنچ سربراہان کو چیف جسٹس دیپک مشرا کی جانب سے سونپے جائیں گے،ان بنچ سربراہان میں جسٹس چیلامسور ،گوگوئی، لوکر، جوزف، اے کے سکری،ایس اے بوبدے،آر کے اگروال، این وی رمانا ،ارون مشرا،اے کے گوئل اور آر ایف نریمن شامل ہیں۔یہ 12 ججز اپنی سینیارٹی کے اعتبار سے ترتیب دیے گئے ہیں۔’’باغی ‘‘چاروں سپریم کورٹ ججوں کو اب نئے روسٹر میں اہم کیسز سونپر جائینگے،چیف جسٹس کے بعد اہم سینئر جج جسٹس چیلا مسور کو جوڈیشل افسران ،سپریم کورٹ ملازمین ،ہائی کورٹس ،ضلعی کورٹس اور ٹریبونل کی سماعتوں سے متعلق مقدمات دیکھیں گے،ان کے بنچ کو لیبر ،ان ڈائریکٹ ٹیکس،کرمنل معاملات سمیت دیگر مقدمات بھی دیے جائینگے۔جسٹس لوکر کو سروس،سوشل جسٹس ،ذاتی قوانین ،معدنیات اور صارفین کے تحفظ سے متعلق مقدمات سونپے گئے،لوکر تحفظ جنگلی حیات ،درختوں کی کٹائی اور پانی کے لیول سے متعلق بھی مقدمات دیکھیں گے،جسٹس جوزف کے بنچ کو لیبر ،کرایہ داری ایکٹ ،فیملی لا،توہین عدالت اور دیگر مقدمات بھی سنبھالیں گے،’’انڈین ایکسپریس ‘‘کے مطابق چیف جسٹس کیسوں کے سونپے جانے پر سوالات اُٹھانے والے چاروں ججز کیلئے یہ نظام پیش کیا گیا ہے،چاروں ججز مستقبل میں چیف جسٹس بنیں گے اور یہ بھی مقدمات کو روسٹر کے مطابق سونپیں گے،یہ عام کرنے کا نظام سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے مطالبے پر کیا گیا ہے۔بھارتی چیف جسٹس بنچ سربراہان کو لیٹرز کی بنیاد پر پٹیشنز بھی دینگےجن میں الیکشن کیسز اور توہین عدالت اور آئینی امور شامل ہونگے۔یہ انکوائری کے کمیشنز بھی دیکھیں گے،جن میں جوڈیشل افسران کے معاملات ،سپریم کورٹ ملازمین ہائی کورٹس ،ڈسٹرکٹ کورٹس اور ٹریبونل وغیر ہ شامل ہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.