ایران نے اسرائیل پر حملہ کردیا، اسرائیلی طیاروں کا گشت شروع، ایمرجنسی ڈیکلئر، تعلیمی ادارے بند، اجتماع پر پابندی، عراق شام اردن کی فضائی حدود بند، ایران کا 50 فیصد ہدف کامیاب ہونے کا دعویٰ

الجزیرہ کے مطابق اسرائیلی فوج کے ترجمان ڈینیئل ہگری نے ان حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے اپنی سرزمین سے اسرائیل کی سرزمین کی طرف بغیر پائلٹ کے طیارے روانہ کیے ہیں۔ان طیاروں کو اسرائیل تک پہنچنے میں کئی گھنٹے لگیں گے۔

اسرائیل نے کہا کہ ایران نے بغیر پائلٹ کا ایک سیلو لانچ کیا اور دفاعی نظام اسے مار گرانے یا سائرن بجانے کےلیے تیار تھا جس سے کسی بھی خطرے دوچار علاقوں کے رہائشیوں کو پناہ لینے کا حکم دیا گیا ہے۔

دوسری جانب ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ 50 سے زائد ڈرون اور میزائل اسرائیل کی جانب داغے گئے ہیں۔

اسرائیل میں تعلیمی ادارے بند

قبل ازیں اسرائیل نے ایران کے ممکنہ حملے اور سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر ملک بھر میں اسکول بند کرنے کا اعلان کرتے ہوئے تعلیمی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ لوگوں کے اجتماعات پر بھی پابندی عائد کردی۔

فوجی ترجمان ڈینیئل ہیگری نے ٹیلی ویژن پر اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیل کا ایئر ڈیفنس تیار ہے اور درجنوں طیارے اس وقت فضا میں موجود ہیں۔

اس کے علاوہ ملک میں ایک ہزار یا اس سے زائد افراد کے اجتماع یا ایک جگہ جمع ہونے پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے۔

ایران کا آبنائے ہرمز میں اسرائیلی بحری جہاز پر قبضہ کرنے کا دعویٰ

قبل ازیں گزشتہ روز ایران کے پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز میں اسرائیلی بحری جہاز قبضے میں لینے کا دعویٰ کیا تھا۔

خبر رساں ادارے رائٹرز نے ایرانی نیوز ایجنسی ارنا کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ پرتگال کے جھنڈے کے حامل اسرائیلی بحری جہاز ’ایم ایس سی‘ ایریز ویسل کو انقلابی گارڈز کے ذریعے قبضے میں لیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ پاسداران انقلاب کی بحری فورسز کے خصوصی ہیلی کاپٹر کو بحری جہاز پر اتار کر اس پر قبضہ کیا گیا۔

اسرائیلی وزیر خارجہ اسرائیل کاٹز نے کہا کہ ایران بحری قذاقی کر رہا ہے لہٰذا اس پر پابندیاں لگائی جانی چاہئیں۔

کاٹز نے کہا کہ خامنہ ای کی آیت اللہ حکومت ایک مجرمانہ حکومت ہے جو حماس کے جرائم کی حمایت کرتی ہے اور اب بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بحری قزاقوں جیسی کارروائیاں کر رہی ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ میں یورپی یونین اور دنیا کے دیگر ممالک سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ فوری طور پر ایرانی پاسداران انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دیں اور ایران پر ابھی پابندیاں لگائیں۔

ایران اسرائیل حالیہ کشیدگی کا پس منظر

واضح رہے کہ یکم اپریل کو اسرائیل کی جانب سے شام میں ایرانی قونصل خانے پر میزائل حملے میں ایرانی پاسداران انقلاب کے لیڈر سمیت 12 افراد شہید ہوگئے تھے۔

اس حملے کے بعد ایرانی فوجی سربراہ جنرل حمد حسین بغیری نے شام میں ایرانی قونصل خانے پر اسرائیلی حملے کا بھرپور جواب دینے کا اعلان کیا تھا۔

ایران نے اسرائیل کے خلاف جوابی کارروائی سے قبل امریکا کو تمام تر معاملے سے دور رہنے کا انتباہ جاری کردیا تھا، جبکہ ممکنہ حملے کے پیش نظر اسرائیل نے مختلف ممالک میں اپنے 28 سفارتخانے بھی بند کردیے تھے۔

حال ہی میں امریکا اور اس کے حلیف ممالک نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ ایران یا اس کے اتحادی مستقبل قریب میں اسرائیل پر بڑے میزائل یا ڈرون حملے کرسکتے ہیں، اور ایسا ہونے سے گزشتہ 6 ماہ سے جاری جنگ خطے میں مزید پھیل سکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.